شریف، زرداری رجیم نے عوام کا جینا دوبھر کردیا! پیٹرولیم لیوی پر 227 ارب روپے اضافے وصولی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرنے والے صارفین سے حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 4 ہزار 400 ارب روپے جمع کرلیے جبکہ یہ وصولی مقررہ ہدف سے بھی 227 ارب روپے زیادہ رہی۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومتی آمدن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے بھی اس مد میں ایک ہزار 676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

چار سال میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں نمایاں اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022-23 کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 542 ارب روپے جمع کیے تھے جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 960 ارب روپے ہوگئے۔

اسی طرح مالی سال 2024-25 میں اس مد میں وصولی ایک ہزار 161 ارب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران یہ رقم بڑھ کر ایک ہزار 567 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار سال کی مجموعی وصولی تقریباً 4 ہزار 400 ارب روپے رہی جو مقررہ ہدف سے 227 ارب روپے زیادہ بتائی گئی ہے۔

پانچ سال میں پیٹرولیم لیوی 6 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان

حکومتی تخمینوں کے مطابق اگلے پانچ سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولی 6 ہزار 76 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

رواں مالی سال کے لیے ایک ہزار 676 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا جانا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کی آمدن میں پیٹرولیم لیوی کا حصہ بدستور اہم رہے گا۔

پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 110 روپے تک ٹیکس اور دیگر چارجز

دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف بنیادی قیمت شامل نہیں ہوتی بلکہ صارفین سے مختلف ٹیکس، ڈیوٹیز، لیوی اور مارجن بھی وصول کیے جاتے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی سمیت ٹیکس، ڈیوٹی اور مارجن کی مد میں مجموعی طور پر 110 روپے 78 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مختلف ٹیکسوں، لیوی اور مارجن کی مد میں 107 روپے 55 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔

پیٹرولیم لیوی میں کمی کا فیصلہ اگلے بجٹ تک موخر

پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی کے حوالے سے صارفین کو فی الحال کوئی فوری ریلیف ملنے کا امکان ظاہر نہیں کیا گیا کیونکہ حکومت نے اس معاملے کو آئندہ بجٹ تک موخر کردیا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں پیٹرول اور ڈیزل پر موجودہ لیوی اور دیگر چارجز برقرار رہیں گے جبکہ ان میں ممکنہ کمی یا ردوبدل کا معاملہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں زیر غور آسکتا ہے۔

Related Posts