لاہور پولیس کی حراست میں 2 لڑکیوں کی پراسرار موت! اہلخانہ کے مطالبے پر عدالتی تحقیقات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لاہور پولیس کی حراست میں 4 اگست کو دو کم عمر لڑکیوں کی پراسرار موت کے معاملے کی جوڈیشل مجسٹریٹ نے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 176 کے تحت تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم افسوسناک واقعے کے کئی پہلو تاحال معمہ بنے ہوئے ہیں۔

عدالتی تحقیقات کا آغاز مقتول لڑکیوں آمنہ اور انمول کے اہلخانہ کے مطالبے پر کیا گیا جنہوں نے پولیس حراست میں پیش آنے والے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ دونوں لڑکیاں گرفتاری سے لیکر 4 اگست کو ٹاؤن شپ تھانے میں ریسکیو 1122 کی ٹیم طلب کیے جانے تک دو گھنٹے سے زائد عرصہ پولیس کی تحویل میں رہیں۔

سی آر پی سی کی دفعہ 176 کے تحت اگر کوئی شخص پولیس حراست میں یا مشکوک حالات میں جان سے چلا جائے تو مجسٹریٹ موت کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کرسکتا ہے۔ قانون مجسٹریٹ کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے، بیانات قلمبند کرنے اور گواہوں کے حلفیہ بیانات لینے کا اختیار بھی دیتا ہے۔

اس معاملے سے واقف پولیس افسران سے بات چیت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر واقعے کی کڑیوں کو لڑکیوں کی گرفتاری سے ان کی موت تک جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک پولیس افسر کے مطابق 4 اگست کو دوپہر 2 بج کر 54 منٹ پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر زیشان لطیف کی کال موصول ہوئی۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ دو لڑکیاں اس کے گھر میں داخل ہوئیں اور اس کی اہلیہ کے سونے کے زیورات اور نقد رقم دھوکے سے چوری کرلی۔

ٹاؤن شپ پولیس کے سب انسپکٹر غلام غوث 3 بج کر 11 منٹ پر موقع پر پہنچے اور دونوں لڑکیوں کو تھانے لے آئے جہاں انہیں 3 بج کر 26 منٹ پر ڈیوٹی محرر تسنیم عارف کے حوالے کردیا گیا بعد ازاں زیشان لطیف نے درخواست جمع کروائی جسے شام 4 بج کر 40 منٹ پر ای ٹیگ کیا گیا جبکہ دونوں لڑکیوں کے خلاف 4 بج کر 50 منٹ پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق شام 5 بج کر 20 منٹ پر لڑکیوں کی تحویل آپریشنز ونگ سے تفتیشی عملے کو منتقل کیے جانے سے متعلق رپورٹ درج کی گئی۔

Image

پولیس افسر کے مطابق آپریشنز ونگ کے محرر نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد مقررہ طریقہ کار کے تحت دونوں لڑکیوں کو تفتیشی ونگ کے محرر بلال کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی دیر بعد صورتحال تشویشناک ہوگئی اور شام 6 بج کر 3 منٹ پر ٹاؤن شپ پولیس نے ریسکیو 1122 کے مرکزی دفتر سے رابطہ کرکے دونوں لڑکیوں کی بگڑتی ہوئی حالت کی اطلاع دی۔

ریسکیو 1122 کی ٹیم 6 بج کر 14 منٹ پر تھانے پہنچی جہاں ایک لڑکی کی حالت انتہائی نازک بلکہ تقریباً موت کے قریب بتائی گئی جبکہ دوسری بے ہوش تھی۔ پولیس افسر کے مطابق دونوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچنے پر بے ہوش لڑکی کو مردہ قرار دے دیا جبکہ دوسری لڑکی جس کی حالت بھی تشویشناک تھی کچھ ہی دیر بعد دوران علاج دم توڑ گئی۔

لڑکیوں کی موت کی خبر پھیلنے کے بعد صدر ڈویژن کے آپریشنز اور تفتیشی شعبوں کے اعلیٰ پولیس افسران تقریباً رات ساڑھے 9 بجے ٹاؤن شپ تھانے پہنچے اور صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ حکام کو واقعے سے آگاہ کیا۔

پولیس افسر کے مطابق واقعے کے بعد آپریشنز اور تفتیشی ونگز کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور دونوں جانب کے افسران مبینہ طور پر لڑکیوں کی تحویل کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے لگے۔

انکوائری میں لڑکیوں کو 3 بج کر 11 منٹ پر حراست میں لیے جانے اور 6 بج کر 3 منٹ پر ریسکیو 1122 کو طلب کیے جانے کے درمیان گزرنے والا تقریباً تین گھنٹے کا عرصہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں دونوں لڑکیاں بظاہر پولیس اسٹیشن پہنچنے کے وقت نسبتاً بہتر حالت میں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں پولیس اہلکار کو دونوں سے سوالات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈیوٹی محرر کے کمرے میں نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی ایک اور ویڈیو میں آمنہ اور انمول کرسیوں پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں ہوش میں نظر آتی ہیں اور کمرے سے باہر جانے سے قبل ڈیوٹی محرر سے بات چیت بھی کرتی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکیوں سے پوچھ گچھ اور ان کی پولیس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی مکمل تفصیلات تھانے میں نصب سکیورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ میں موجود نہیں ہیں۔

واقعے کے فوراً بعد تفتیشی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں لڑکیوں کی موت ممکنہ طور پر منشیات کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کے باعث ہوئی تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹس کے ذریعے اس دعوے کی حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے جبکہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے یہ رپورٹس اہم شواہد تصور کی جارہی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے وقت حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار جاری تھا اس لیے موت کی وجہ کے حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا تھا۔

تفتیشی ایس ایس پی محمد نوید نے پولیس حراست میں لڑکیوں پر تشدد کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری ہونے سے متعلق لاعلم ہیں تاہم پولیس حراست میں تشدد کے الزامات بالکل بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق دونوں لڑکیاں طویل عرصے سے منشیات استعمال کرتی تھیں اور بظاہر پولیس اسٹیشن لائے جانے سے پہلے ہی کسی طاقتور نشہ آور چیز کا استعمال کرچکی تھیں۔ ان کے بقول حراست کے دوران لڑکیاں منشیات کے اثر سے بے ہوش ہوئیں اور بعد میں اسی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

محمد نوید کا کہنا ہے کہ لڑکیوں سے پوچھ گچھ کا ایک بڑا حصہ تھانے میں نصب نگرانی کے کیمروں میں محفوظ ہے اور دستیاب ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس حراست میں ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ پولیس افسران کی درخواست پر سی آر پی سی کی دفعہ 176 کے تحت جوڈیشل انکوائری شروع کی گئی ہے، جس کے نتائج سے دونوں لڑکیوں کی موت کے اصل حالات سامنے آنے کی امید ہے۔

جب ایس ایس پی سے پوچھا گیا کہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایسے معاملات میں ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی جاتی ہیں جہاں کسی مشتبہ شخص کی پولیس حراست میں تشدد سے موت یا پولیس مقابلے میں ہلاکت کا الزام ہو۔ ان کے مطابق موجودہ معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس میں پولیس کی تحویل میں موجود دو مشتبہ لڑکیوں کی اموات ہوئی ہیں اس لیے ایف آئی اے کی تحقیقات ضروری نہیں سمجھی گئی۔

جوڈیشل انکوائری میں لڑکیوں کو حراست میں لیے جانے کے حالات، آپریشنز اور تفتیشی ونگز کے درمیان تحویل کی منتقلی، دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج، پولیس اہلکاروں اور دیگر گواہوں کے بیانات سمیت پوسٹ مارٹم رپورٹس کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ دونوں لڑکیوں کی موت کے اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں۔

Related Posts