ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے ، جس میں ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ شہری جاں بحق ہوگئے جبکہ اس دوران ایران نے بھی جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک تشویشناک انسانی المیے کا روپ دھار چکی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہرگزرتے روز کے ساتھ دونوں جانب سے جانی نقصانات کے علاوہ بھاری معاشی نقصان ہورہا ہے جس کے دور ر س اثرات ہوں گے۔
ایران میں اسرائیل کے خفیہ ایجنٹس کے ساتھ تعاون کرنے والے بیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی صوبہ مغربی آذربائیجان کے پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی عسکری و سیکیورٹی تنصیبات کی جگہوں کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کیں۔ پراسیکیوٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “صہیونی دشمن کے ساتھ مل کر کام کرنے والے کئی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی، قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی مقامات کی معلومات بھی شامل تھیں، اور بیس افراد کو عدالتی حکم کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔”
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا ہے، جس میں زمینی ڈیٹا کی بنیاد پر سیکیورٹی چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران ایران کی جانب سے بھی تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس میں متحدہ عرب امارات کے الذفرا فضائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے دس میزائل اور متعدد ڈرون استعمال کیے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ہدف بنائیں گے اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں مکمل طاقت کے ساتھ تعاقب کر کے ہلاک کیا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ “اگر بچوں کا قاتل مجرم نیتن یاہو زندہ ہے تو ہم اسے تلاش کر کے مکمل طاقت کے ساتھ ہلاک کریں گے۔”
ایران کے صنعتی اور فوجی مراکز کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مسلسل حملوں کا سامنا ہے، خاص طور پر اصفہان میں متعدد فیکٹریوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان ملک کے سب سے زیادہ آباد شہروں میں شامل ہے اور یہاں صنعتی و عسکری کمپلیکس موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اصفہان میں کئی شہری جاں بحق ہوئے اور رہائشی علاقے بھی جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
اسی طرح شیراز میں بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں رہائشی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق “صہیونی امریکی مجرمانہ حکومت نے شیراز کے ایک رہائشی اور محروم علاقے پر دہشت گردانہ اور غیر انسانی حملہ کیا۔” رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے اور شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ شیراز تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس میں یونیسکو کی فہرست میں شامل ارم گارڈن بھی موجود ہے۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ بندی کے لیے تیار ہے لیکن صدر ابھی تک کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ایران کی جانب سے “شرائط ابھی معقول حد تک مناسب نہیں ہیں۔” ٹرمپ نے بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ منصوبہ بندی کر رہے ۔صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ کے متعلق یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ زندہ ہیں یا جاں بحق ہوگئے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کارروائیاں گزشتہ ماہ سے جاری ہیں، جس میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے مشترکہ حملے کیے اور ایران نے بھی جوابی حملے کیے۔ اب تک 13امریکی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 6 ہلاک فوجی ریفیولنگ طیارے کے حادثے میں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون پروڈکشن سائٹس کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا گیا ہے اور چند دنوں میں ان کی عسکری طاقت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
ان حملوں سے ایران کے صوبہ فارس، مغربی آذربائیجان اور اصفہان میں شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے، جبکہ ہسپتال، اسکول اور ریڈ کریسنٹ کے مراکز بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں ایران سے کسی نرم رویے کی توقع رکھنا عبث ہوگا، کیونکہ ملک اپنی قومی سلامتی اور موجودگی کو خطرے میں محسوس کر رہا ہے اور اب کی مرتبہ سیزفائر کی بجائے دائمی حل ہی چاہتا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ضروری ہو، جس سے امریکی دعووں پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔
ایران جنگ سے یہ تلخ حقیقت مزید واضح ہو کر بھری ہے کہ دنیا میں شاید ہی کسی اور مخلوق نے اپنی ہی نوع کے دیگر جانداروں کو اتنا نقصان پہنچایا ہو، جتنا انسان دوسرے انسانوں کو پہنچا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں اور ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہورہا ہے جو بڑی تعداد میں جاں بحق، زخمی اور بے گھر ہوگئے ہیں جن کی جلد از جلد بحالی بے حد ضروری ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا، بقول شاعر:
لہو لہو جو مرا سر مجھے دکھائی دیا
خود اپنے ہاتھ میں پتھر مجھے دکھائی دیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








