ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف اراضی کیس: کیا سچ ہے،کیا جھوٹ ؟

ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف اراضی کیس: کیا سچ ہے،کیا جھوٹ ؟

ہفتہ کی دوپہر جہاں ڈاکٹر شیریں مزاری کی محکمہ اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار ی کی خبر گرم تھی، اس حوالے سے سوشل میڈیا پرٹرینڈ چل رہے تھے، دوسری طرف ایک کالم بھی واٹس ایپ گروپوں اور فیس بک پر وائر ل تھا۔ ن لیگی میڈیا سیلز بڑے زوروشور سے اسے پھیلانے اور پوسٹ کرنے میں مصروف تھے۔

کالم پڑھا تو پہلے یقین نہیں آیا کہ ایسی بے سروپا اور بچکانہ بلکہ احمقانہ کہانی کو کوئی اخبارنویس چھاپ سکتا ہے۔ کئی لوگوں نے مجھے لنکس بھیجے کہ دیکھئے ملک کے ایک نامور کالم نگار اور اینکر صاحب نے یہ کالم تین چار ہفتے قبل ملک کے ایک معروف اخبار میں شائع کیا ہے۔ میں نے خود نیٹ پر تھوڑی ریسرچ کی اور پھراس اخبار کے آرکائیوز میں جا کر وہ کالم پڑھا اور پھر دنگ رہ گیا۔ یہ کالم بائیس اپریل کو چھپا تھا۔

محترم کالم نگار نے جو کہانی بیان کی یا کہہ لیں جو کہانی انہیں پکڑائی گئی تھی، اس کے مطابق پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کے والد سردار عاشق حسین مزاری روجھان، راجن پور کے نامور فیوڈل لارڈ رہے ، ان کی ہزاروں ایکڑ اراضی تھی۔

بھٹو صاحب نے لینڈ ریفارمز یعنی زرعی اصلاحات نافذ کیں تو مختلف زمین داروں کی زمین قبضے میں لے لی گئی۔(مبینہ طور پر) بعض دیگر جاگیر داروں کی طرح سردار عاشق مزاری نے بھی محکمہ مال کے مقامی اہلکاروں(پٹواری وغیرہ )کے ساتھ مل کر جعلی کاغذات بنوائے اور اپنی زمین مختلف کمپنیوں کے نام کر دی تاکہ حکومت اس پر قبضہ نہ کر سکے۔

پھر زمینوں کے اصل کاغذات کا بکسہ اپنے قابل اعتماد پٹواری کے گھر رکھوا دیا گیا۔ اس خدشہ سے کہ کہیں لینڈ ریفارمز والے ان کے گھر چھاپا نہ مار دیں۔ پٹواری نے بھی خوف کے مارے وہ بکسہ اپنے قابل اعتماد نائب قاصد کے گھر رکھوا دیا گیا۔ بہرحال سردار عاشق مزاری پر محکمہ مال نے مقدمہ کر دیا جو چلتا رہا۔ سردار عاشق مزاری مال والوں کو کہتے کہ اصل ریکارڈ دکھاﺅ تو ان کے پاس اصل ریکارڈ نہ ہوتا ، یوں کیس چلتا رہا۔

حکومتیں بدلتی رہیں، سردار عاشق مزاری انتقال کر گئے، ان کے بعد ان کا بیٹا سردار ولی مزاری اور بیٹی شیریں مزاری وارث بنیں ۔شیریں مزاری بعد میں سیاست میں آ گئیں۔ کیس پچاس سال تک چلتا رہا، وہ محکمہ مال سے محکمہ اینٹی کرپشن کے درمیان گھومتا رہا۔ اس دوران وہ پٹواری ترقی کر کے گرداور بنا اور پھر ریٹائر ہو کر فوت ہوگیا، وہ نائب قاصد بھی فوت ہوگیا، تاہم کاغذات کا بکسہ اسی کے گھر نسل درنسل منتقل ہوتا رہا۔

حتیٰ کہ 2018ءمیں پی ٹی آئی کی حکومت ا ٓگئی۔ شہزاد اکبر نے تب ڈاکٹر شیریں مزاری کی اس کیس میں سپورٹ کی اور چونکہ تب کا ڈی جی اینٹی کرپشن اس کا دوست تھا ، اس لئے اس کیس کی تفتیش الماری میں بند کر دی گئی۔ بعدمیں اتفاق سے نیا ڈی جی اینٹی کرپشن ایک دبنگ افسر آ گیا جو دلیر ، جری اور کسی کی پروا نہ کرنے والا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اسے کہا کہ شیریں مزاری کو اس کیس میں تنگ نہ کرنا، ڈی جی اس پر چونک کر اس کیس کی طرف متوجہ ہوگیا۔

اس نے تفتیش شروع کی اور کمال ہوشیاری سے (مشہور جاسوسی کردار شرلاک ہومز ) کی طرح اس نائب قاصد کے گھر تک پہنچ گیا اور اس کے بیٹے سے اصل کاغذات کا وہ بکسہ حاصل کر لیا۔ معاملہ چونکہ بگڑ گیا تھا، اس لئے عثمان بزدار نے ڈی جی اینٹی کرپشن کا تبادلہ کر دیا، مگر تب تک تحریک عدم اعتماد آ گئی اور کچھ بھی نہ ہوا۔اس دوران دبنگ افسر نے ایف آئی آر بھی درج کرا دی۔

اس شاندار ڈرامائی اور سنسنی خیز کہانی کے بعد محترم کالم نگار ، اینکر، سیاح، بلکہ اب تو نامور موٹیویشنل سپیکر نے بڑے دردناک انداز میں موجودہ حکومت کی توجہ اس کیس کی طرف دلاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب پھر سے اس دبنگ ڈی جی کے تبادلہ کی کوشش ہو رہی ہے ، ایک منحرف رکن اسمبلی نے انہیں (حسب روایت ) قہقہہ مارتے ہوئے بتایا کہ ان کے رکے کام ہو رہے ہیں اور وہ شیریں مزاری سے تعلق یا قرابت داری کی بنیاد پر اس ڈی جی کا تبادلہ کرا رہے ہیں۔

(یاد رہے کہ ہمارے ممدوح کالم نگار کی بیشتر کالمی کہانیوں میں کردار قہقہہ ضرور لگاتے ہیں۔ نجانے کیوں ہر اچھی بری، سچی جھوٹی بات کہنے سے پہلے قہقہہ لگانا ان کی عادت ہوتی ہے۔ )

محترم کالم نگار نے یہ کہانی سنانے کے بعد موجودہ حکومت سے ایک اوردلسوز اپیل کی کہ اس تفتیش کو مکمل ہونا چاہیے ، اس سے پہلے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت پوری ٹیم اور ثبوتوں کے صندوق کو غائب کرا دیا جائے۔

اب اس کہانی کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلے سردار عاشق مزاری مرحوم کے بارے میں ۔ان کا تعلق راجن پور کے معروف مزاری قبیلے سے تھا، سردار خاندان سے تھے ، ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک بڑے جاگیردار مگر پڑھے لکھے اور ترقی پسند ذہن کے آدمی ۔پاکستان پیپلزپارٹی سے ان کا تعلق رہا، بھٹو صاحب کے ذاتی دوستوں میں تھے اور ایسا ہرگز نہیں تھا کہ بھٹو ان کا مخالف تھا۔

عاشق مزاری راجن پور کے عوام دوست سرداروں میں سے تھے، جن کا عام آدمی کے ساتھ طرزعمل بھی دوستانہ تھا اور روایتی سرداروں والی خوبو نہیں تھی۔راجن پور میں کسی سے پوچھیں ، وہ سردار عاشق مزاری کی تعریف کرتا ملے گا۔ اپنی بیٹی شیریں مزاری کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، کولمبیا یونیورسٹی اور لندن سکول آف اکنامکس بھیجا ، وہ بھی اس دور میں جب ایسا رواج کہیں نہیں تھا۔

اب اس مضحکہ خیز کہانی کے مطابق سردار عاشق مزاری نے ہزاروں ایکڑ زمین کے جعلی کاغذات بنوائے اور محکمہ مال سے اصل کاغذات چوری کرا کر ایک بکسے میں بند کر کے پٹواری کے پاس رکھوائے، جس نے اپنے نائب قاصد کے گھر اس بکسے کو منتقل کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اگلے پچاس برس تک وہ بکسہ اسی نائب قاصد کے گھر محفوظ پڑا رہا۔ کیا ایسا ممکن ہے؟

کیا راجن پور کے سردار عاشق مزاری کے پاس کوئی ایسی محفوظ جگہ نہیں تھی جہاں وہ اپنی ذاتی تحویل میں وہ کاغذات رکھ سکتا؟ چلیں بھٹو دور میں چھاپے کا خطرہ تھا۔ بھٹو کے بعد جنرل ضیا کی حکومت آ گئی تھی،پھر بے نظیر بھٹو، پھر نواز شریف، پھر بے نظیر، نواز شریف، جنرل مشرف، آصف زرداری اور اس کے بعد پھر نواز شریف حکومت۔ تب تو ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا۔

سردار مزاری وہ کاغذات کا بکسہ اپنے کسی محفوظ مقام میں منتقل کر دیتا۔ چلیں اس نے نہیں کیا تو مغرب سے پڑھی لکھی شیریں مزاری کو بھی اس کا آئیڈیا نہیں آیا؟جو امریکہ اور انگلینڈ میں برسوں پڑھتی رہی، وہ کاغذات باہر لے جا کر وہاں کسی لاکر میں محفوظ کر دیتی۔

ویسے تو سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ جب جعلی کاغذات بنوا لئے گئے اور محکمہ مال کے اصل کاغذات غائب کراد ئیے گئے تو کسی مقدس دستاویز کی طرح انہیں پچاس سال تک محفوظ کیوں رکھا گیا؟کیا اس لئے کہ ایک دن کوئی” دبنگ“اینٹی کرپشن افسر اسے دریافت کر کے اپنے قبضے میں کر لے؟اور پھر ایف آئی آر کٹوا دے؟

سوال تو یہ بھی اٹھانا چاہیے کہ وہ نائب قاصد جو کہ ظاہر ہے دوڈھائی مرلے کے کسی مکان میں رہتا ہوگا، ممکن ہے اپنا مکان بھی نہ ہوا ور اس کی زندگی کرایے کے گھروں میں شفٹ ہوتی گزری ہو، اس نے کاغذات کاوہ بکسہ کیوں سنبھالی رکھا؟چلو اس کی آنکھ میں کچھ حیا تھی اور اپنے پٹواری کے راز کی حفاظت کی خاطر اس نے ایسا کیا۔ جب وہ سوختہ نصیب مر گیا تو اس کے بیٹے کو کیا پڑی تھی کہ پچاس سال پرانا یہ سالخوردہ بکسہ سنبھالی رکھتا؟ اتنی حفاظت تو لوگ اپنے دادا دادی کی تصویر کی نہیں کر پاتے۔
حیرت ہے کہ ہمارے محترم کالم نگار، اینکر صاحب نے ایسی بے سروپا کہانی پر یقین کر لیا اور اسے اپنے کالم کی زینت بھی بنا ڈالا۔

سوال تو یہ بھی اٹھانا چاہیے تھا کہ پچاس سال پرانے کیس میں اچانک ایسا بریک تھرو کیا آ گیا کہ ایف آئی آر تک نوبت آ گئی ، وہ بھی پی ٹی آئی حکومت کے آخری دنوں میں؟

صاف ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور قبلہ چودھری صاحب” ببلو میاں“ کے” الحمدللہ یہ لندن والے فلیٹ ہمارے ہیں“والے فیم انٹرویو کی طرح ایک بار پھر استعمال ہوگئے ۔

اس کہانی اور واقعے میں ایک اہم ٹوئسٹ معروف صحافی، اینکر حامد میر نے پیدا کیا۔ انہوں نے ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف ان الزامات پرمبنی فائل ان کے پاس آئی تھی ، مگر چونکہ یک طرفہ بے بنیاد الزامات لگ رہے تھے، اس لئے میں نے اس پر پروگرام نہیں کیا اور نہ ہی کچھ لکھا۔

حامد میر کے بقول انہوں نے ڈاکٹر شیریں مزاری سے اس بارے میں رابطہ کیا تو وہ حیران رہ گئیں، شیریں مزاری نے حامد میر کو بتایا کہ میرے پاس تو بمشکل چند سو کنال اراضی بچی ہے، زمینیں بیچ بیچ کر میں سیاست کر رہی ہوں اور میری دلچسپی بھی آبائی اراضی میں نہیں۔ شیریں مزاری کو اس مقدمہ یا کیس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔

حامد میر کے بقول شیریں مزاری نے اس بات کے چند دن بعد مجھے فون کر کے پوچھا کہ اس معاملہ کی کچھ تفصیل معلوم ہو تو بتاﺅں کیونکہ انہیں کوشش کے باوجود کسی قسم کے کیس یا ایف آئی آر کا پتہ نہیں چل رہا۔

پی ٹی آئی کے خلاف موقف رکھنے کی شہرت رکھنے والے حامد میر نے بتایا کہ ان کی ایک ن لیگی ایم پی اے سے بات ہوئی جو شیریں مزاری کا مخالف تھا، اس کا بھی یہ کہناتھا کہ یہ کیس وغیرہ سب بکواس ہے اور بنیادی مقصد انتقامی کارروائی ہے، مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

یہ ہے وہ مبینہ کہانی جسے ڈاکٹر شیریں مزاری کے حوالے سے وضع کیا گیا ، اگرچہ اس کے اندر بے پناہ تضادات اور کمزوریاں ہیں اور اس پر یقین کرنے کے لئے باقاعدہ قسم کی علمی بددیانتی اور شدید قسم کا سیاسی تعصب ہونا ضروری ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں