پاکستان پر کتنے کھرب روپے کا قرض چڑھ گیا ؟ قرض اور سود کے مکمل تفصیل سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم 81.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے تاہم اس رقم میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کیے گئے قرضے شامل نہیں ہیں۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب کے دوران حکومتی قرضوں، قرض سے متعلق پالیسی اور بیرونی مالی معاونت کے حوالے سے اہم تفصیلات ایوان کے سامنے رکھ دیں۔

قومی اسمبلی میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ جولائی تا مئی 2025-26 کے دوران مرکزی حکومت کا ملکی قرض 58.1 کھرب روپے رہا جبکہ آئی ایم ایف کے قرض کو نکالنے کے بعد بیرونی قرض کا حجم 23.8 کھرب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

محمد اورنگزیب کے مطابق جولائی 2026 میں مرکزی حکومت کا مجموعی قرض 77.9 کھرب روپے تھا جس میں ملکی قرض 54.5 کھرب روپے اور بیرونی قرض 23.4 کھرب روپے شامل تھا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ 11 ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے مجموعی قرض میں 4 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جو 5.2 فیصد بنتا ہے۔ انکے مطابق 11 ماہ پر مشتمل مالی سال کی بنیاد پر یہ گزشتہ 15 برس میں قرض بڑھنے کی سب سے کم رفتار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لِمٹیشن ایکٹ کے تحت قرض کم کرنے کے لیے ایک مخصوص راستہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق مالی سال 2024 سے قرض میں سالانہ 0.75 فیصد کمی لانے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ مالی سال 2033 تک قرض اور مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے تناسب کو 50 فیصد تک لایا جاسکے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق مذکورہ قانون کا بنیادی مقصد مالیاتی اور قرض کے انتظام کے لیے مضبوط اصول وضع کرنا ہے جس میں وفاقی مالیاتی خسارے اور قرض کے GDP سے تناسب کو کم کرنا اور دونوں کو محتاط اور قابلِ انتظام حدود میں برقرار رکھنا شامل ہے۔

قرض اور جی ڈی پی کا تناسب کتنا ہے؟

وزیر خزانہ نے بتایا کہ جون 2026 کے لیے قرض اور جی ڈی پی کا تناسب 68.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مجموعی عوامی ڈپازٹس کی رقم جاری نہیں کی گئی تھی۔

ان کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام پر دستیاب 7.9 کھرب روپے کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جائے تو مالی سال 2026 کے لیے قرض اور جی ڈی پی کا تناسب 62.2 فیصد تک رہنے کا اندازہ تھا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2023 سے مالیاتی استحکام کے اقدامات اختیار کیے ہیں جن کے ذریعے بنیادی بجٹ میں سرپلس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ نئے قرض لینے کی ضرورت کم ہوسکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے قرضوں کے بہتر انتظام کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے، جن میں قرضوں کی دوبارہ خریداری اور ادائیگی، قرض کی مدت کے ڈھانچے میں بہتری اور قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔

سودی اخراجات میں 23 فیصد کمی

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی جانب سے طویل مدت کے قرضی آلات کی طرف منتقلی اور معاشی استحکام میں بہتری سے قرضوں کی سروسنگ لاگت کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران سود کی ادائیگیوں پر 4.9 کھرب روپے خرچ ہوئے جبکہ مالی سال 2025 کے اسی عرصے میں یہ اخراجات 6.4 کھرب روپے تھے۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر سودی اخراجات میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

وزیر خزانہ کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی کا رجحان واضح ہورہا ہے اور حکومت مالیاتی استحکام اور قرض کے بہتر انتظام سے متعلق اپنی حکمت عملی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔

سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹس

سعودی عرب سے حاصل ہونے والے ڈپازٹس سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپریل 2026 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں مزید 3 ارب ڈالر جمع کرائے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس پہلے ہی اسٹیٹ بینک میں موجود تھے۔ ان پرانے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت میں بھی توسیع کی گئی ہے جس سے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں اہم مدد ملی۔

امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی

پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے بتایا کہ امریکا اب بھی پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی منڈی ہے۔

ان کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی امریکا کے لیے برآمدات کا حجم 5.9 ارب ڈالر رہا۔

Related Posts