چانڈیو ولیج میں 15 سالہ لڑکی سے جنسی زیادتی! ہائیکورٹ کا جعلی وکیل ارحم چانڈیو فرار، مقدمہ درج

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کے علاقے چانڈیو ولیج پنجاب کالونی میں 15 سالہ لڑکی بسمہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں پولیس نے ایم ایل او رپورٹ کے بعد فیریئر تھانے میں مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمہ متاثرہ لڑکی کے والد ظہیر الدین ولد جلال دین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی 16 اگست کی رات اپنی پھوپھی کے گھر سے واپس گھر آ رہی تھی کہ راستے میں مبینہ طور پر ارحم چانڈیو ولد سیف اللہ چانڈیو نے اسے زبردستی روک کر ایک عمارت کی چھت پر لے گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ زیادتی کی جبکہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے شور مچانے اور مدد کے لیے آوازیں دینے پر ملزم نے اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا۔ مقدمے کے مطابق واقعے کے بعد ملزم نے لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو واقعے کے بارے میں بتایا تو اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کردے گا اور اس کے والد کے خلاف مقدمہ درج کروائے گا۔

مدعی کے مطابق مبینہ دھمکی کے باعث ان کی بیٹی نے فوری طور پر واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تاہم بعد میں والدہ کو واقعے کا علم ہوا جسکے بعد متاثرہ لڑکی کو تھانے لایا گیا اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی۔

پولیس کے مطابق بیان زیر دفعہ 154 ضابطہ فوجداری قلمبند کرنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور ایف آئی آر کے متن کے مطابق واقعے میں متعلقہ تعزیری دفعات عائد کی گئی ہیں۔ مقدمے کی تفتیش ایس ایس آئی او صدر ڈویژن کے سپرد کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مبینہ ملزم ارحم چانڈیو اور اس کے والد سیف اللہ چانڈیو تاحال فرار ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم خود کو مبینہ طور پر وکیل ظاہر کرتا ہے تاہم وہ طالب علم ہے جبکہ اس کی گاڑی پر ہائیکورٹ کی نمبر پلیٹ لگی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی گرفتاری اور واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ایف آئی آر میں درج الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

Related Posts