ناصر مگوں کی پاکستان کی برآمدات میں اضافے کیلئے عالمی بینک سے مدد کی اپیل

Gonzalo J. Valero

کراچی:ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے پاکستان کی برآمدات میں تیز رفتار اور پائیدار نمو کیلئے عالمی بینک سے تکنیکی مدد کی اپیل کی ہے۔

ایف پی سی سی آئی میں ایکسپورٹ پروموشن کے موضوع پر ورلڈ بینک کے سیمینار کا انعقاد کیاگیاجس کااہتمام ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ نے کیا تھا اور اس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پرمیاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہونے کے باوجود کل عالمی برآمدات میں پاکستان کا حصہ فقط صفر اعشاریہ11 فیصد ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی آبادی کے مقابلے اتنی کم برآمدات کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتا اور اتنی کم برآمدات دیگر اہم اقتصادی مسائل کو بھی جنم دیتی ہیں۔

پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین محمد یونس ڈھاگا نے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ میں پیش کیے گئے تجزیے کو سراہا۔ انہوں نے اس خیال سے اتفاق کیا کہ برآمدی مراعات، سبسڈیز اور رعایتی فنانسنگ کو چند گنے چنے شعبوں کے بجائے تمام برآمد کنندگان اور سیکٹرز کے لیے دستیاب ہونا چاہیے اور بر آمدات میں نئے شعبوں اور زیادہ ویلیو رکھنے والی پروڈکٹس کو شامل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔

محمد یو نس ڈھاگا نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ خام مال کے ٹیرف کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری صنعتوں کو در آمد ات کے ساتھ ساتھ برآمدات کو بھی کمپٹیشن کے قابل بنایا جا سکے۔ محمد یونس ڈھاگا نے کہا کہ آزاد تجارت اور عالمی ٹیرف میں کمی کے ذریعے درآمدات کو آزاد کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:گیس بحران کا بروقت ازالہ نہ کیا گیاتو سنگین بحران پیدا ہوجائے گا، اسماعیل ستار

انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں تک رسائی کا موجودہ عالمی ماحول،ریجنل اور سیاسی صف بندی کی بنیاد پر مبنی ہے اور ٹیرف اور نان ٹیرف اقدامات کے باوجود بڑھتے ہوئے پروٹیکشن ازم باعث تشویش ہے۔مزید برآں کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے پوری دنیا کی سپلا ئی چین میں خلل پیدا ہو نے کے بعد پالیسیوں کی سمت کا از سر نو جا ئزہ لیا جانا چایئے اورورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی تجارتی پالیسی کی سفارشات میں کرونا کے بعد کی صورتحال کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔

ورلڈ بینک کے سینئر ماہر اقتصادیات گونزالو جے والیرونے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات کو متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ نئی منڈیوں کو برآمدات، پیداوار ی لاگت میں کمی، بارڈر ٹر یڈ کو بڑھانا اور ریجنل اقتصادی انضمام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں
تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں