عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل پانچ روز سے کمی کا رجحان جاری ہے تاہم پاکستانی عوام کو اس عالمی مندی کا ریلیف ملنے کے بجائے شہباز حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے مہنگائی کے شکار عوام کے لیے مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 60 سینٹ یعنی 0.7 فیصد کم ہوئی جس کے بعد یہ 87.24 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی وقت کے مطابق 0004 جی ایم ٹی تک کے ہیں جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں یہ مسلسل چوتھے روز کی کمی ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے فیوچرز میں بھی 56 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 81.67 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کے نرخوں میں یہ مسلسل پانچویں دن کمی ہے جو عالمی تیل مارکیٹ میں برقرار دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر ڈیزل کی پیداوار میں کمی کے اثرات بھی ایندھن کے ذخائر پر واضح ہونے لگے ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ فیول کے ذخائر 22 لاکھ بیرل گھٹ کر 10 کروڑ 34 لاکھ بیرل رہ گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








