چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ایک اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے آسٹریلیا سے آئے باپ اور بیٹے کا راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو اسپتال میں علاج جاری ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں نے دونوں کی طبی حالت کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے دونوں افراد کو فوری طور پر بے نظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تفصیلی معائنے کے بعد ان کے آپریشن کیے گئے تاکہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
معالجین کا کہنا ہے کہ سرجری کے دوران والد اور بیٹے کے جسم میں لگنے والی گولیاں کامیابی کے ساتھ نکال لی گئی ہیں۔ دونوں کو بدستور ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور طبی ماہرین کے مطابق ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔
واضح رہے کہ چکوال میں پیش آنے والے اس افسوس ناک واقعے میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان فائرنگ کی زد میں آ گیا تھا، جس کے باعث 9 سالہ ہانیہ احمد جان کی بازی ہار گئی، جبکہ معصوم بچی کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے تھے۔
چار افراد پر مشتمل یہ خاندان، جو آسٹریلوی شہریت رکھتا ہے، پرتھ سے اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کیلئے چکوال آیا تھا۔ خاندان میں 39 سالہ عدیل احمد، ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور 9 سالہ بیٹی ہانیہ احمد شامل تھے۔
آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بدھ کی شب یہ خاندان اپنے ایک عزیز کے گھر کے باہر گاڑی میں موجود تھا کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار 2 مسلح افراد وہاں پہنچ گئے۔ ملزمان نے گاڑی کو گھیر کر اہل خانہ سے نقد رقم اور زیورات چھین لیے۔
اسی دوران سڑک کے دوسری جانب واقع پولیس اسٹیشن سے واپس آنے والے ایک پولیس اہلکار نے واردات ہوتے دیکھی اور ملزمان کو روکنے کیلئے ان پر فائرنگ کر دی۔ جواباً ڈاکوؤں نے بھی گولیاں چلائیں، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دونوں ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کا افسوسناک موڑ اس وقت سامنے آیا جب عدیل احمد نے اپنی فیملی کو محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے فوری طور پر گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش کی، جبکہ اسی اثنا میں پولیس کی اضافی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی تھی۔رپورٹ کے مطابق موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے عدیل احمد کی گاڑی کو تیزی سے جاتے دیکھا تو انہیں شبہ ہوا کہ شاید یہی وہ گاڑی ہے جس میں ڈاکو فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس غلط اندازے کے باعث پولیس اہلکاروں نے گاڑی پر شدید فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد موقع پر ہی گولی لگنے سے دم توڑ گئی، جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔تاہم اس واقعے میں عدیل احمد کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان محفوظ رہیں اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








