وفاقی حکومت نے مقامی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی منصفانہ تقسیم اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک میں پیدا ہونے والی ایل پی جی کا 90 فیصد حصہ شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا جبکہ 10 فیصد سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کو فراہم ہوگا۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق نئے ڈی ریگولیٹڈ نظام کے تحت قائم ایل پی جی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہفتے کو سیکریٹری پیٹرولیم کی صدارت میں ہوا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس میں کہا کہ حکومت صارفین کو ایل پی جی کی دستیابی اور غیر منصفانہ قیمتوں سے متعلق شکایات دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ اجلاس وفاقی کابینہ کی جانب سے 4 نومبر 2026 کو منظور کردہ نیلامی نظام پر عمل درآمد کی اہم پیش رفت ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیاں اپنی پیداوار کا 10 فیصد دشوار گزار علاقوں کی ضروریات کے لیے سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کو دیں گی جبکہ باقی 90 فیصد ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں نیلام کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیلامی میں شریک ہر کمپنی زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی روزانہ خرید سکے گی تاکہ تمام اہل کمپنیوں کو یکساں مواقع مل سکیں۔
حکومت نے ایل پی جی کی روزانہ پیداوار کی نگرانی اور اس کی تفصیلات وزیراعظم کو پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک میں گیس کی فراہمی کی صورتحال پر مؤثر نظر رکھی جاسکے۔
علی پرویز ملک کے مطابق نئے نظام کا مقصد سپلائی چین کو مضبوط بنانا، مقامی گیس کی منصفانہ تقسیم اور صارفین کو مناسب قیمت پر ایل پی جی کی دستیابی بہتر بنانا ہے جبکہ کمزور طبقوں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ایل پی جی کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری پیٹرولیم کریں گے۔ اس میں اوگرا، او جی ڈی سی ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ اور ڈائریکٹر جنرل لیکویفائیڈ گیسز کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








