بالی ووڈ کے بے باک اور لیجنڈری اداکار نانا پاٹیکر اس دنیا میں نہیں رہے۔ 75 سال کی عمر میں بھی انتہائی فعال اور کسانوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے نانا پاٹیکر 7 اکتوبر کی دیر رات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ گوا کے اسپتال میں صبح 5 بج کر 20 منٹ پر انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ ان کی ناگہانی موت نے مداحوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
موت کا کوئی ڈر نہیں، 12 من لکڑیاں جمع کر رکھی تھیں
موت کے حوالے سے نانا پاٹیکر کے خیالات ہمیشہ سے ہی منفرد اور حقیقت پسندانہ رہے۔ دو سال قبل (2023 میں) ایک معروف میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے اپنی زندگی اور موت کے بارے میں کھل کر بات کی تھی۔
اس انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ اپنی آخری رسومات کی مکمل تیاری کر چکے ہیں اور انہوں نے اپنے لیے 12 من لکڑیاں بھی جمع کر رکھی ہیں، جو ان کا اصل اور واحد سرمایہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری کی چکاچوند اور مایا نگری میں لوگ خود کو بدل لیتے ہیں اور دولت سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں مگر وہ حقیقت سے منہ نہیں موڑتے کیونکہ سب کو ایک نہ ایک دن دنیا سے جانا ہے۔

انہوں نے مزاح مگر حقیقت پسندانہ انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ ان کی لاش کو گیلی لکڑیوں میں نہ جلایا جائے کیونکہ گیلی لکڑی کے دھوئیں سے اردگرد کھڑے دوستوں کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے اور وہ غلط فہمی میں پڑ جائیں گے کہ ان کے دوست ان کے لیے رو رہے ہیں۔
زندگی ایک اسٹیج ہے اور ادھار کا وقت ہے
نانا پاٹیکر نے زندگی کو ایک ناٹک یا اسٹیج قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے یا مختلف کردار نبھاتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ ہمیں کبھی اپنے لیے جینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ انہوں نے فنکاروں کی زندگی پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری پہچان تالیوں کی آواز سے ہے اور جس دن یہ آواز بند ہو جائے گی وہ لمحہ موت کے برابر ہوگا۔

مرنے کے بعد تصویر نہ لگانے اور ماں سے ملنے کی خواہش
موت کے بعد کی زندگی اور یادوں پر بات کرتے ہوئے نانا پاٹیکر کا کہنا تھا کہ دنیا سب کو بھول جاتی ہے اس لیے ان کی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد ان کی تصویر بھی گھر یا دیوار پر نہ لگائی جائے۔
اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کے تمام 7 بھائی بہن دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور وہ اکیلے رہ گئے تھے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ دنیا سے جانے کے بعد وہ سب سے پہلے اپنی ماں سے ملاقات کریں گے کیونکہ آج بھی ان کا دل کہتا ہے کہ ان کی ماں زندہ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








