خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جہاں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کے درمیان ہونے والی خفیہ اور اہم ملاقات کے اندرونی راز فاش ہوچکے ہیں۔ اس ملاقات میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال، وفاقی حکومت کے مبینہ اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی دباؤ اور ہنگامی صورتحال کا خدشہ
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے لیے پر تول رہی ہے۔ ملاقات میں یہ نکتہ بھی زیرِ غور آیا کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے خلاف سخت لائحہ عمل یا لانگ مارچ کا اعلان نہ کیا جائے تو موجودہ سیٹ اپ کو بچایا جا سکتا ہے۔
آئینی فیصلے اور وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی کے امکانات
اندرونی کہانی کے مطابق ملاقات میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا کہ آئندہ دنوں میں وفاقی آئینی عدالت کا کوئی ایسا فیصلہ آ سکتا ہے جس کے نتیجے میں علی امین گنڈاپور ایک بار پھر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی مسند پر فائز ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے یقین دلایا کہ وہ ذاتی منصب کے بجائے پارٹی کے مفادات کو سب پر مقدم رکھیں گے۔
اسمبلی توڑنے کا آپشن اور بانی پی ٹی آئی کی ناراضی
ذرائع کا بتانا ہے کہ اگر موجودہ سیاسی بحران کسی بند گلی میں داخل ہوتا ہے تو پارلیمانی پارٹی کی منظوری سے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن بھی میز پر موجود ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دوٹوک موقف اپنایا کہ اگر پارٹی کے قانون ساز اداروں نے اجازت دی تو وہ اسمبلی توڑنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بانی پی ٹی آئی سے اسمبلی توڑنے کے معاملے پر باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی تھی جس پر بانی پی ٹی آئی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ناراضی بشریٰ بی بی ایک اہم سینیٹر اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی موجودگی میں سامنے آئی اور سہیل آفریدی و علی امین گنڈاپور کی ملاقات کے دوران بھی بانی پی ٹی آئی کے اس سخت گیر رویے پر تفصیلی بحث کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








