اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ او آئی سی نے واضح کیا ہے کہ حوثی عناصر کی جانب سے مملکت کے خلاف جاری جارحیت اور مقدس مقامات کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔
او آئی سی کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مساجد اور حرمین شریفین کا تقدس پامال کرنے کے عمل سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور اس سے پُرامن شہریوں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہری آبادی اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اسلامی اصولوں کے بھی بالکل منافی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری اور متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نوعیت کے مذموم اقدامات کا راستہ روکنے کے لیے فوری اور سخت لائحہ عمل اختیار کریں۔
اس موقع پر او آئی سی نے حکومتِ سعودی عرب کے ساتھ غیر مشروط یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مملکت کی سلامتی، اس کی جغرافیائی خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ریاض جو بھی اقدامات اٹھائے گا، تنظیم ان کی بھرپور تائید کرتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے دوران عرب اتحاد نے مکہ مکرمہ کے جنوبی علاقے میں ایک مشکوک حوثی ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم دوسری طرف حوثی حکام نے مکہ کو نشانہ بنانے کے اس دعوے کو رد کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








