سعودی فضائی دفاعی فورسز نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں گھسنے والے ایک مشکوک ڈرون کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عرب اتحاد (کولیشن) کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ منگل کے روز مکہ کے جنوبی علاقے میں ایک ڈرون کو اس وقت روکا گیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔
Saudi Arabia confirms it intercepted a Houthi drone south of Makkah before it entered the holy city’s restricted airspace. 🇸🇦
The Kingdom has made it clear: The security of the holy sites and pilgrims is a “red line.”
May Allah protect the Two Holy Sanctuaries. 🕋🤲#Makkah… pic.twitter.com/p4Vqp9lEwD
— Dr. Bu Abdullah (@Dr_BuAbdullah) September 16, 2026
حملے کا پس منظر اور تفصیلات
عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بدھ کی صبح جاری کردہ اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس کارروائی کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی ایک مذموم کوشش کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مقدس شہر کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بھی ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔
حرمین شریفین کی سلامتی سرخ لکیر ہے
ترکی المالکی نے اس ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور حرمین شریفین کے سیکورٹی عملے کو خوفزدہ کرنے کی ایک سنگین کوشش تھی۔ انہوں نے اسے وہاں مقیم شہریوں اور زائرین کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی گھناؤنی سازش بھی قرار دیا۔
اتحادی افواج نے دوٹوک الفاظ میں عزم ظاہر کیا ہے کہ حرمین شریفین اور وہاں آنے والے زائرین کی حفاظت ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔
مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے تمام ضروری اور سخت اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک روز قبل (منگل کو) سعودی عرب کے مختلف شہروں جن میں مکہ مکرمہ بھی شامل ہے سیکیورٹی کے حوالے سے خصوصی الرٹس جاری کیے گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








