عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 2.77 ڈالر اضافے کے بعد 100.69 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 100.95 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 2.18 ڈالر اضافے کے بعد 95.21 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو جون کے آغاز کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی طویل ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی مزید متاثر ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں اور بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات نے بھی مارکیٹ میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہونے کا براہِ راست اثر پاکستان کی درآمدی لاگت پر پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں آئندہ جائزے میں پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








