غریب عوام کی جیب پر ایک اور ڈاکہ؟ وفاقی وزیر نے گیس بھی مہنگی کرنے کا عندیہ دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان میں گیس کے موجودہ سلیب پر مبنی سبسڈی نظام میں تبدیلی کی حکومتی تجویز نے غریب اور متوسط طبقے کے گھرانوں کے لیے نئے مالی خدشات پیدا کر دئیے ہیں۔

حکومت تمام صارفین کے لیے ایک ہی گیس نرخ مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم اگر مستحق افراد تک ہدفی ریلیف نہ پہنچ سکا تو گیس کے گھریلو بل مزید بھاری ہونے کا امکان ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد نظام میں بہتری اور کارکردگی لانا ہے لیکن اس کے نتیجے میں عام صارفین کے لیے گیس کے اخراجات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت یکساں گیس قیمت کے نفاذ کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو ممکنہ اضافی بوجھ سے بچانے کے لیے ہدفی سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ موجودہ سلیب کی بنیاد پر دی جانے والی سبسڈی کے نظام کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق گیس کے نرخوں اور سبسڈی کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو تقویت دینا اور صارفین کو گیس چھوڑ کر متبادل ایندھن کی جانب منتقل ہونے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے حکام سے ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر نے کمپنی کے لیے پائیدار کاروباری ماڈل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات جنہیں یو ایف جی لاسز کہا جاتا ہے کم کرنے کو خصوصی اہمیت دینے پر زور دیا۔ اس موقع پر ایس ایس جی سی ایل کی انتظامیہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حجمی بنیادوں پر یو ایف جی نقصانات میں تقریباً 57 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اجلاس کے شرکا کو گیس کی فراہمی کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق کے الیکٹرک، صنعتی صارفین اور کھاد تیار کرنے والے پلانٹس کے لیے گیس کی کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ گھریلو صارفین کو روزانہ تین اوقات میں گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ گیس کے نرخ گزشتہ ایک سال سے برقرار ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے گیس کے شعبے کے گردشی قرضے کو محدود کرنے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی بینک کے اشتراک سے گیس سیکٹر میں وسیع پیمانے پر اصلاحات لانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

Related Posts