سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمات درج کرنے میں تاخیر سے انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے، اس لیے پولیس کی کارکردگی اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جزا و سزا کا مؤثر تصور نظر نہیں آتا اور بعض معاملات میں پولیس خود ملزمان کے بری ہونے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ کئی مقدمات میں پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے بھی گریز کرتی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ زیرِ سماعت مقدمے میں قتل کے واقعے کے 2 دن بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے اور صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ ایسے سلوک کا تصور جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈی آئی جی سکھر کو بھی سپریم کورٹ میں طلب کرلیا گیا تاکہ مقدمات کے اندراج میں تاخیر اور پولیس کی کارکردگی سے متعلق وضاحت حاصل کی جاسکے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ سکھر اور لاڑکانہ میں امن و امان اور پولیس کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ عدالت نے وکلا کو کیس کی مزید تیاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








