چینی صدر کی 7 سال بعد دورہ بھارت کی تیاریاں! بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان برف پگھل گئی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باوجود تعلقات میں بہتری کی نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔ چینی صدر بیجنگ آئندہ ماہ نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کرسکتے ہیں۔ اگر دورہ طے پاتا ہے تو یہ 7 سال بعد ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا جبکہ چینی حکام ہوٹل اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔

بھارت 12 اور 13 ستمبر کو برکس اجلاس کی میزبانی کرے گا جہاں شی جن پنگ کی ممکنہ شرکت کو 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی اہم علامت سمجھا جارہا ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق چینی صدر کے ساتھ تقریباً 400 رکنی وفد بھی آسکتا ہے جو 2019 کے 200 سے کم اہلکاروں کے وفد کے مقابلے میں دگنا ہے۔

اجلاس میں دونوں ممالک باہمی روابط بڑھانے کے امکانات کے ساتھ سرحدی تنازع اور علاقائی سکیورٹی جیسے اختلافات پر بھی بات کرسکتے ہیں تاہم شی جن پنگ کا حتمی سفری پروگرام اور ممکنہ دوطرفہ ملاقات کا ایجنڈا ابھی طے نہیں ہوا۔

چینی وزارت خارجہ نے برکس تعاون میں بھارت کی میزبانی کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال شی جن پنگ کے دورے سے متعلق حتمی معلومات موجود نہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

چین اور بھارت کے درمیان ہمالیہ میں تقریباً 3,800 کلومیٹر متنازع سرحد ہے۔ 2020 کی جھڑپوں میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد تقریباً چار سال کشیدگی رہی۔ اکتوبر 2024 میں فوجی کشیدگی کم کرنے کا معاہدہ ہوا تاہم جولائی کے آخر میں دونوں ممالک کے فوجی ایک بار پھر سرحدی علاقے میں آمنے سامنے آگئے تھے۔

Related Posts