چترال کی وادیوں میں ثقافت کا رنگ! کیلاش کا تاریخی اوچال میلہ اختتام پذیر، دیکھیں تصاویر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

چترال کی دلکش اور قدیم وادیوں میں دنیا کی انوکھی کیلاش تہذیب کا سالانہ مذہبی و ثقافتی تہوار اوچال / اوچاؤ تین روز تک جاری رہنے کے بعد وادی بمبوریت میں اپنی تمام تر رعنائیوں اور روایتی جوش و جذبے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ فیسٹیول میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کالاش ثقافت کے منفرد رنگوں، روایتی رقص اور موسیقی سے محظوظ ہوئے۔

موسمِ گرما کے اختتام پر منایا جانے والا یہ منفرد تہوار روایتی رسومات، رقص، موسیقی اور دلفریب ثقافتی سرگرمیوں سے بھرپور ہے۔ یہ رمبور سے شروع ہو کر رات دو بجے تک جاری رہنے کے بعد وادی بمبوریت میں اختتام پذیر ہوگا۔

چترال کیلاش اوچال

چترال کیلاش اوچال

چترال کیلاش اوچال

اس تہوار میں شرکت اور کیلاش ثقافت سے لطف اندوز ہونے کے لیے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے چترال اور کیلاش وادیوں کا رخ کیا ہے۔

فصلوں کی کٹائی اور شکرانے کی صدیوں پرانی روایت

اوچال دراصل کیلاش قبیلے کا ایک انتہائی اہم مذہبی و ثقافتی تہوار ہے۔ یہ گندم اور جو جیسی مختلف فصلوں کی کٹائی مکمل ہونے کی خوشی اور قدرت کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر گزاری کے طور پر منایا جاتا ہے۔

صدیوں سے جاری اس تہوار کے دوران کیلاش برادری اپنے مخصوص مذہبی عقائد، روایات اور ثقافتی اقدار کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتی ہے۔

اس دو روزہ تہوار کے دوران کیلاش برادری کے افراد پہاڑی علاقوں میں موجود کھیتوں سے گندم کی فصل کاٹ کر اسے آبادی تک لاتے ہیں۔ اس موقع پر چرواہوں کو بھی ساتھ لایا جاتا ہے جبکہ پہاڑی علاقوں سے مکھن بھی لایا جاتا ہے۔

تهوار کی ایک نمایاں روایت کے تحت یہ مکھن بعد ازاں ہمسایوں، رشتہ داروں، مہمانوں اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں میں خوشی اور محبت کے اظہار کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

روایتی رقص اور مقامی ثقافت کے دلفریب رنگ

مقامی صحافی فتح اللہ نے بتایا کہ تہوار کے دوسرے روز وادئ رمبور میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روایتی رقص اور موسیقی کے لیے ڈانسنگ ہال میں جمع ہوتے ہیں۔

یہاں کیلاش ثقافت کے مخصوص روایتی رقص پیش کیے جاتے ہیں مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں اور پہاڑی علاقوں سے لایا گیا مکھن شرکا اور مہمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

کیلاش قبیلے میں اوچال تہوار کی تیاریوں کا سلسلہ تہوار سے قبل ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جولائی کے آغاز میں رنات ڈانس کی روایت ادا کی جاتی ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مل کر روایتی رقص کرتے ہیں۔

یہ رقص عموماً جوار کی فصل کی کٹائی کے بعد کیا جاتا ہے اور کیلاش ثقافت میں اس کی خاص اہمیت سمجھی جاتی ہے۔

اوچال فیسٹیول ہر سال اگست کے مہینے میں کیلاش کے وادئ رمبور اور بمبوریت میں منایا جاتا ہے تاہم اس کا سب سے بڑا اور مرکزی میلہ وادی بمبوریت میں سجتا ہے۔

رواں سال بھی تہوار کے دوران کیلاش برادری کی روایتی زندگی، ثقافت، لباس، موسیقی اور رقص کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد ان وادیوں میں موجود ہے۔

کیلاش وادیوں میں سیاحوں کی آمد سے مقامی سطح پر سیاحت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کیلاش کے مذہبی اور ثقافتی تہوار نہ صرف ان کی صدیوں پرانی روایات کے تحفظ کا ذریعہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں چترال اور کیلاش ثقافت کا مثبت تعارف بھی کراتے ہیں۔

کیلاش برادری کے قدیم تہوار اوچال کو مقامی لوگ اپنی ثقافتی شناخت، قدرتی نعمتوں پر شکر گزاری اور باہمی محبت و بھائی چارے کے اظہار کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

سیاحوں کے لیے یہ تہوار دنیا کی منفرد اور قدیم ثقافتوں میں سے ایک کو قریب سے دیکھنے اور اس کے روایتی رنگوں سے لطف اندوز ہونے کا انمول موقع فراہم کرتا ہے۔

سیاحوں کا حکومت سے بنیادی انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کا مطالبہ

کالاش وادیوں میں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے حکومت سے سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

چترال کیلاش اوچال

سیاحوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں سمیت بنیادی انفرااسٹرکچر کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔ کیلاش کی خوب صورت وادیوں میں قدرتی حسن، منفرد ثقافت اور قدیم روایات دیکھنے کے لیے ہر سال بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں تاہم خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں سیاحت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

چترال کیلاش اوچال

سیاحوں کے مطابق کیلاش وادیوں تک پہنچنے والی سڑکوں کی حالت کئی مقامات پر انتہائی خراب ہے جس کے باعث چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔

سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور تنگ راستوں کے باعث گاڑیوں کی رفتار انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ بعض مقامات پر سفر کرنا دشوار ہونے کے ساتھ حادثات کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔

Related Posts