اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں 5 اگست کو بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والے احتجاج کے دوران گرفتار افراد کے مقدمات کی سماعت ہوئی، جہاں پولیس کی جانب سے دونوں بازوؤں سے محروم ایک شخص کو بھی مبینہ طور پر ڈنڈے اور پتھر مارنے کے الزام میں عدالت میں پیش کردیا گیا۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ رضوان الدین کی عدالت میں پولیس نے ملزم الطاف اللہ کو پیش کیا۔ ملزم کی جانب سے سردار مصروف ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے دونوں بازو موجود ہی نہیں ہیں، اس لیے اس پر پتھراؤ یا ڈنڈے مارنے کا الزام کیسے عائد کیا جاسکتا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم دونوں بازوؤں سے محروم ہے اور اس کے باوجود پولیس نے اسے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پتھراؤ کرنے کے مقدمے میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کی جسمانی حالت کا خود جائزہ لیا۔ کمرہ عدالت میں ملزم کے دونوں بازو نہ ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد عدالت نے اسے مقدمے سے ڈسچارج کردیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے پولیس کا مؤقف بھی سوالات کی زد میں آگیا۔ ملزم الطاف اللہ کے خلاف تھانہ کرپا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ 5 اگست کو بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والے احتجاج کے تناظر میں درج کیا گیا تھا، جس میں پولیس کی جانب سے احتجاج میں شریک افراد کے خلاف مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔
واقعے نے پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ عدالت کی جانب سے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد کیس کا یہ پہلو خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








