جعلی ویڈیوز کی شناخت کیسے کی جائے، معلوماتی رپورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی سہولت پیدا کردی ہے، وہیں اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال لوگوں کے لیے ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے جانے والے ڈیپ فیک مواد کے ذریعے جعلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز کو اس قدر حقیقت کے قریب بنایا جاسکتا ہے کہ عام صارف کے لیے اصلی اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کے چہرے، آواز، حرکات اور اندازِ گفتگو کی نقل تیار کرکے اسے کسی دوسرے ویڈیو یا آڈیو میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ جعل ساز اس ٹیکنالوجی کو دھوکا دہی، بلیک میلنگ، جعلی شناخت اور مالی فراڈ سمیت مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

ڈیپ فیک کیا ہے؟

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ فیک مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا جانے والا جعلی مواد ہے۔ اس میں اے آئی کسی حقیقی شخص کی تصاویر، ویڈیوز یا آواز کے مختلف نمونوں سے اس کے چہرے، آواز، حرکات اور بولنے کے انداز کے پیٹرن سیکھتی ہے اور پھر انتہائی مشابہ مصنوعی مواد تیار کرسکتی ہے۔

جدید جنریٹیو اے آئی ٹیکنالوجی نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے، جس کے باعث اب جعلی ویڈیو اور آڈیو تیار کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

کیا آواز بھی ڈیپ فیک ہوسکتی ہے؟

ڈیپ فیک صرف تصاویر اور ویڈیوز تک محدود نہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی شخص کی آواز بھی کلون کی جاسکتی ہے، جسے وائس کلوننگ یا ڈیپ فیک آڈیو کہا جاتا ہے۔

اے آئی کسی شخص کی آواز کے نسبتاً مختصر نمونے سے اس کے لہجے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور بولنے کے انداز کا تجزیہ کرکے اس سے ملتی جلتی مصنوعی آواز تیار کرسکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرکے جعل ساز کسی رشتہ دار، دوست، افسر یا بینک نمائندے کی آواز میں بات کرکے رقم، پاس ورڈ، او ٹی پی یا دیگر حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

ڈیپ فیک ویڈیو کی شناخت کیسے کریں؟

کسی مشکوک ویڈیو کو دیکھتے ہوئے چند غیر معمولی علامات پر توجہ دے کر ابتدائی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ویڈیو مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے یا نہیں۔

  • ہونٹوں کی حرکت اور آواز میں واضح عدم مطابقت۔
  • چہرے کے تاثرات یا حرکات کا غیر فطری محسوس ہونا۔
  • آنکھوں کی حرکت، فوکس یا پلک جھپکنے کا معمول سے مختلف ہونا۔
  • سر اور گردن کی حرکات کا جسم کے باقی حصے سے غیر مربوط نظر آنا۔
  • ہاتھوں اور انگلیوں کی حرکات میں غیر معمولی پن۔
  • آواز میں روبوٹک انداز یا غیر فطری اتار چڑھاؤ۔
  • چہرے کے کناروں کا دھندلا یا غیر واضح دکھائی دینا۔
  • جلد کا غیر معمولی حد تک صاف یا مصنوعی محسوس ہونا۔
  • روشنی اور سائے کا چہرے یا جسم کے ساتھ درست انداز میں مطابقت نہ رکھنا۔

تاہم ان میں سے کوئی ایک علامت لازماً یہ ثابت نہیں کرتی کہ ویڈیو ڈیپ فیک ہے۔ جدید اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے بہتر ہورہی ہے، اس لیے کسی بھی مشکوک مواد کی تصدیق کے لیے ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرنا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔

ویڈیو کال میں ’تھری فنگر رول‘ کیا ہے؟

مشکوک ویڈیو کال کے دوران بعض افراد ابتدائی جانچ کے طور پر ’تھری فنگر رول‘ استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقے میں ویڈیو کال پر موجود شخص سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے چہرے کے سامنے تین انگلیاں کرے۔

کچھ فیس سوپ یا ڈیپ فیک سسٹمز اچانک اس طرح کی حرکت کو درست طور پر پروسیس کرنے میں مشکل کا شکار ہوسکتے ہیں، جس سے چہرے یا انگلیوں کے اطراف بصری بگاڑ دکھائی دے سکتا ہے۔

تاہم یہ طریقہ حتمی یا سو فیصد قابلِ اعتماد ٹیسٹ نہیں۔ جدید اے آئی سسٹمز بعض اوقات ایسی حرکات کو بھی درست انداز میں ظاہر کرسکتے ہیں، اس لیے صرف اس ٹیسٹ کی بنیاد پر کسی شخص کو جعلی قرار نہیں دینا چاہیے۔

ڈیپ فیک فراڈ سے محفوظ کیسے رہیں؟

کسی مشکوک ویڈیو، آڈیو، فون کال یا لنک پر فوری اعتبار کرنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی شخص فون یا ویڈیو کال پر ہنگامی صورتحال کا حوالہ دے کر فوری رقم، پاس ورڈ، او ٹی پی یا بینکنگ معلومات طلب کرے تو پہلے اس کی شناخت کسی دوسرے قابلِ اعتماد ذریعے سے ضرور تصدیق کریں۔

سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر موصول ہونے والے غیر مصدقہ لنکس کھولنے سے بھی احتیاط کریں۔ کسی بھی شخص کے ساتھ پاس ورڈ، او ٹی پی، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا دیگر حساس معلومات شیئر نہ کریں۔

اگر کسی قریبی شخص کی آواز یا ویڈیو کال غیر معمولی محسوس ہو تو اسی شخص کو اس کے معلوم اور محفوظ نمبر پر واپس کال کرکے تصدیق کرنا بہتر ہے۔

ڈیپ فیک فراڈ کا شکار ہوجائیں تو کیا کریں؟

اگر کوئی شخص ڈیپ فیک یا اے آئی کے ذریعے ہونے والے فراڈ کا شکار ہوجائے تو گھبرانے کے بجائے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ متاثرہ شخص کو متعلقہ سائبر کرائم حکام یا پولیس سے رابطہ کرکے شکایت درج کرانی چاہیے۔

جعلی ویڈیو یا آڈیو، اسکرین شاٹس، لنکس، فون نمبرز، چیٹ اور دیگر متعلقہ شواہد کو محفوظ رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر مالی نقصان ہوا ہو تو متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارے کو بھی فوری اطلاع دینی چاہیے۔

اس کے علاوہ جس سوشل میڈیا پلیٹ فارم، میسجنگ ایپ یا ویب سائٹ پر جعلی مواد موجود ہو، وہاں بھی اس مواد کو رپورٹ کیا جانا چاہیے تاکہ اسے مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔

Related Posts