ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ایک حصہ تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے ٹکرا گیا، جس کے بعد چلی میں نصب یورپین سدرن آبزرویٹری (ای ایس او) کی بڑی دوربین نے اس کے اثرات کا کامیاب مشاہدہ کیا۔ ٹیلی اسکوپ نے چاند کی سطح سے اٹھنے والے گرد کے بادل میں موجود سوڈیم اور لیتھیم گیسوں کے کیمیائی نشانات ریکارڈ کیے، جو تقریباً 5 سے 10 منٹ تک برقرار رہے جبکہ گرد کا بادل درجنوں کلومیٹر تک پھیل گیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ ٹکراؤ چاند کے اس حصے میں ہوا جہاں روشن اور تاریک علاقے آپس میں ملتے ہیں۔ گرد کے بادل سورج کی روشنی میں کچھ دیر کے لیے چمکے، تاہم زمین سے انہیں ننگی آنکھ سے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا۔ اس وقت چاند کے گرد گردش کرنے والا کوئی بھی سیٹلائٹ اس مقام پر موجود نہیں تھا جو اس منظر کو براہِ راست ریکارڈ کر سکتا تاہم عالمی میڈیا کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
SpaceX rocket crashes into Moon, carving 100‑foot crater
A Falcon 9 stage slammed into the lunar surface at seven times the speed of sound, releasing energy equivalent to three tons of TNT
Still, the crater is too small to see from Earth with the naked eye pic.twitter.com/ZRxFO8ETIh
— RT (@RT_com) August 5, 2026
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرے گا اور چاند سے ٹکرانے والے انسانی ساختہ خلائی ملبے کے اثرات کو سمجھنے میں مدد دے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ناسا چاند پر مستقل انسانی بیس قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
تقریباً پانچ منزلہ عمارت جتنے بلند اور چار ٹن وزنی راکٹ کے اس حصے کے ٹکراؤ سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر اور جنوبی کوریا کے پاتھ فائنڈر آربیٹر سے متاثرہ مقام کی تصاویر حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ یہ فالکن 9 راکٹ جنوری 2025 میں دو لینڈرز کو چاند کی جانب لے جانے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








