سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک اور ایکس پر 7 جون 2026 سے ایک تصویر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے۔ زیادہ تر شیئر کرنے والے بظاہر پی ٹی آئی کے حامی ہیں۔ اس تصویر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس میں زیرِ حراست پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں سیکیورٹی اہلکار وہیل چیئر پر لے جا رہے ہیں تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
دعویٰ:
وائرل تصویر میں مبینہ طور پر عمران خان کو پمز اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار وہیل چیئر پر منتقل کر رہے ہیں۔
تحقیق کے دوران تصویر کا بصری اور فرانزک تجزیہ کیا گیا جبکہ اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے کی ورڈ سرچ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق جانچ کے مختلف طریقے استعمال کیے گئے۔
عمران خان مختلف مقدمات کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ 2026 کے آغاز میں ان کی صحت سے متعلق خدشات اس وقت بڑھے جب ان کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ انہیں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کا سامنا ہے جس کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی بعد ازاں انہیں حکومتی نگرانی میں آنکھوں کے معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے بعد میں بتایا کہ ان کی طبی حالت مستحکم ہے۔
پی ٹی آئی قیادت اور عمران خان کی قانونی ٹیم اپنی پسند کے اسپتال میں علاج اور ذاتی معالجین تک رسائی کا مطالبہ کرتی رہی۔ اس معاملے کی وجہ سے ان کی صحت مسلسل عوامی توجہ کا مرکز بنی رہی، جبکہ انہیں طبی معائنے اور دیگر مراحل کے لیے وقتاً فوقتاً پمز لے جایا جاتا رہا۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
7 جون کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیر برائے معدنیات عارف احمدزئی نے جن کے ایکس پروفائل کے مطابق وہ سابق وزیر رہ چکے ہیں ٹک ٹاک پر ایک تصویر شیئر کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر پمز میں عمران خان کو سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے وہیل چیئر پر منتقل کیے جانے کی ہے۔
اس پوسٹ کو تقریباً ایک لاکھ 89 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی روز ایک پی ٹی آئی حامی ایکس اکاؤنٹ نے بھی یہی تصویر شیئر کی اور صارفین سے سوال کیا کہ آیا یہ تصویر اصلی ہے یا مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے۔ اس پوسٹ کو تقریباً 37 ہزار 200 ویوز ملے بعد میں یہی تصویر متعدد دیگر پی ٹی آئی حامی اکاؤنٹس نے بھی ایکس اور ٹک ٹاک پر شیئر کی جنہیں مجموعی طور پر تقریباً 38 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔
🚨پلیز کوئی بتا سکتا ہے یہ تصویر اوریجنل ہے یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ہے ؟
پلیز کمنٹ میں بتائے 🙏 pic.twitter.com/hSBFDNhHjt
— Mohammad Shehzad Khan (@MShehzadSpeaks) July 6, 2026
تحقیق کا طریقہ کار:
عمران خان کی صحت سے متعلق عوامی دلچسپی کے باعث اس دعوے کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کیا گیا۔
کسی معتبر پاکستانی یا عالمی میڈیا ادارے کی ایسی رپورٹ تلاش کی گئی جس میں عمران خان کے پمز دورے یا اس تصویر کا ذکر ہو، لیکن کوئی قابلِ اعتماد حوالہ سامنے نہیں آیا۔
تصویر کے باریک جائزے میں کئی غیر معمولی چیزیں سامنے آئیں۔ سیکیورٹی اہلکار کی وردی پر موجود ایک سایہ یا چیز غیر واضح اور بگڑی ہوئی دکھائی دی۔اہلکاروں کی وردیوں پر نام کے بیجز بھی دھندلے نظر آئے جو عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں دیکھے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ پس منظر میں موجود کئی افراد کے چہروں کے کنارے غیر فطری انداز میں دھندلے تھے اور چہرے کی واضح ساخت موجود نہیں تھی۔
تصویر کو مختلف AI ڈیٹیکشن ٹولز سے چیک کیا گیا۔ TruthScan نے اسے 84 فیصد امکان کے ساتھ اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا جبکہ AI or Not نے 76 فیصد امکان ظاہر کیا۔ایک اور ٹول Sightengine نے تصویر کو 99 فیصد اے آئی جنریٹڈ قرار دیا۔
یہ دعویٰ کہ وائرل تصویر میں عمران خان کو پمز اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار وہیل چیئر پر لے جا رہے ہیں درست نہیں۔ تصویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی معلوم ہوتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








