یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، عوامی ریلیف کہیں نظر نہیں آتا، پاکستان عوامی قوت

تازہ ترین

تازہ ترین

خاقان خواجہ، فوٹو ایم ایم
خاقان خواجہ، فوٹو ایم ایم

وفاقی بجٹ 2026-27 عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ بجٹ زیادہ تر آئی ایم ایف کی شرائط اور مالیاتی مجبوریوں کے تحت تیار کیا گیا دکھائی دیتا ہے جس میں عوامی فلاح، مہنگائی کے خاتمے اور معاشی ترقی کے بجائے محض مالیاتی اہداف کو ترجیح دی گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین، پاکستان عوامی قوت خاقان وحید خواجہ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور کاروباری مشکلات کے باوجود عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا، جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے محدود سہولتیں بھی زمینی حقائق کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔

حکومت نے اسے ترقی اور برآمدات پر مبنی بجٹ قرار دیا ہے، لیکن صنعت، آئی ٹی سیکٹر، برآمدات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ کے لیے کوئی واضح اور مؤثر حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، مقامی صنعت کو مضبوط بنانے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے ضروری اقدامات کا فقدان ہے، جس کے باعث حکومتی دعوے عملی نتائج میں تبدیل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

یہ بجٹ خصوصاً نوجوانوں کے لیے مایوس کن ہے کیونکہ روزگار، کاروباری مواقع اور ہنر مندی کے فروغ کے حوالے سے کوئی بڑی اور قابلِ ذکر پالیسی سامنے نہیں آئی۔ حکومت معیشت کو وقتی طور پر سنبھالنے کی کوشش تو کر رہی ہے، لیکن ملک کو قرضوں کے چکر سے نکالنے، پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے درکار جرات مندانہ فیصلے اس بجٹ میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عوامی قوت اس بجٹ کو عوامی امنگوں اور قومی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں سمجھتی۔

Related Posts