امریکا نے بھارت کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر مبینہ طور پر ہونے والی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ ہرمز آبنائے میں گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو امریکی ہدایات اور احکامات کی پابندی کرنا لازمی ہوگا۔
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے ایک سینئر سفارتی نمائندے سے گفتگو کے دوران سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی ترسیل یا بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ ہرمز آبنائے جیسے حساس اور اسٹریٹجک آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو امریکی ہدایات کے مطابق ہی نقل و حرکت کرنی ہوگی۔ کسی بھی قسم کی نقل و حرکت کے دوران مشتبہ سرگرمیوں یا غیر مجاز کارروائیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
اسی دوران بھارت کی جانب سے تین ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے پر جمع کرایا گیا باضابطہ احتجاج بھی امریکی حکام نے مسترد کر دیا ہے۔امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں جاری تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں، لہٰذا بھارت کے تحفظات کو اس تناظر میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مارکو روبیو نے بھارتی سفارت کار کو یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں بحری راستوں کی سخت نگرانی اور پابندیوں کا مؤثر نفاذ ناگزیر ہے تاکہ غیر قانونی ترسیل اور ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








