خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کیلئے نامناسب تصاویر کا سہارا لینے والے ملزمان سمیت 8افراد گرفتار ہوگئے۔ بھارت میں خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کیلئے نامناسب طریقے اپنانے والے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد ہراسگی کے معاملات پر تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔
تفصیلات کےمطابق بھارتی شہر احمد آباد کی سٹی سائبر کرائم برانچ نے آن لائن ہراسانی، سائبر اسٹاکنگ اور شناخت کی چوری میں ملوث ایک خاتون سمیت 8 افراد کو گرفتار کر لیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کیلئے اعلیٰ پولیس حکام کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے گجرات اور راجستھان کے مختلف اضلاع میں مشتبہ افراد کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف ملک گیر کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب متعدد خواتین نے سائبر کرائم یونٹ سے رابطہ کر کے جعلی سوشل میڈیا پروفائلز، قابلِ اعتراض میڈیا پیغامات، شناخت کی چوری اور سائبر بُلنگ کے ذریعے ہراساں کیے جانے کی شکایات درج کرائیں۔
رپورٹس کے مطابق خاتون پولیس افسران نے متاثرہ خواتین کی کونسلنگ کی، جس کے بعد 11 الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ شکایت کنندگان کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔ تفصیلی تکنیکی تحقیقات کے ذریعے پولیس ملزمان تک پہنچ گئی، جو عوامی طور پر دستیاب سوشل میڈیا پروفائل رکھنے والی خواتین کو نشانہ بنا رہے تھے۔
اے آئی کا غلط استعمال
تحقیقات کے دوران ملزمان کی جانب سے سائبر ہراسانی کے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے مختلف طریقے سامنے آئے۔ ایک اہم ملزم سریش پوری نے مبینہ طور پر 6 ماہ کے دوران 10 جعلی آئی ڈیز بنائیں اور تقریباً 300 خواتین کو نشانہ بنایا۔ وہ انہیں برہنہ تصاویر، قابلِ اعتراض آڈیو فائلز اور فحش پیغامات بھیج کر ہراساں کرتا تھا۔
ایک اور ملزم کیور لکر نے خواتین کے نام سے 8 جعلی پروفائلز بنائے اور ان کے ذریعے عوامی پروفائل رکھنے والی خواتین کی سہیلیوں سے رابطہ کیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اسی مشن کے تحت کی جانے والی سابقہ کارروائیوں میں راجستھان اور دہلی سے بھی ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جو آن لائن شخصیات کی نقالی کرتے تھے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کی جعلی برہنہ تصاویر یعنی ڈیپ فیک تصاویر تیار کر کے بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کی کوشش کرتے تھے۔
قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم برانچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے قابلِ اعتراض پوسٹس اور اکاؤنٹس بھی ہٹوائے ہیں۔ پولیس نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ شکایات درج کرانے والی تمام خواتین کی شناخت سختی سے خفیہ رکھی جائے گی تاکہ ان کے لیے محفوظ آن لائن ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








