حکومت نے طویل مشاورت کے بعد نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی، مقامی صنعت کے معیار میں بہتری اور برآمدات میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر نے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی برآمدات کو موجودہ 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آٹو سیکٹر کے لیے مختلف پالیسیاں متعارف کروائی گئیں تاہم برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا۔ نئی پالیسی میں مقامی پیداوار کے بجائے برآمدات کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے جبکہ مقررہ برآمدی اہداف حاصل نہ کرنے والے مینوفیکچررز پر جرمانے بھی عائد کیے جاسکیں گے۔
ہارون اختر کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں خریداروں سے قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کرسکیں گی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کا معیار عالمی سطح پر بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی اسٹینڈرڈز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے جبکہ چارجنگ اسٹیشنز کے لیے درآمدی ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئی آٹو پالیسی کا مقصد گاڑیوں کو معیاری اور نسبتاً سستا بنانا، الیکٹرک وہیکلز کے استعمال کو فروغ دینا اور پاکستانی آٹو انڈسٹری کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








