اتوار کو پاکستان میں کہاں کہاں برکھا برسے گا؟ محکمہ موسمیات کی تازہ پیشگوئی سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کا ایک اور سلسلہ اتوار کو متوقع ہے جس کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔ تازہ موسمی صورتحال کے باعث شہری سیلاب، اچانک طغیانی اور دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشگوئی کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ جھکڑ چلنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہوسکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے نشیبی اور حساس علاقوں میں شہری سیلاب اور اچانک طغیانی کے خدشے سے بھی آگاہ کیا ہے۔ یہ پیشگوئی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے ساتھ نالہ لئی میں بھی بار بار پانی کی سطح بلند ہوئی ہے۔

اتوار کو اسلام آباد کے جی سکس کے علاقے میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش سے ایک مرتبہ پھر انڈر پاسز زیر آب آگئے جبکہ چھٹہ بختاور کے بعض علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ راولپنڈی واسا نے بارش کے باعث ہنگامی صورتحال برقرار رکھتے ہوئے حساس مقامات پر عملہ اور بھاری مشینری تعینات کر رکھی ہے۔

دریائے سندھ پر سیلابی دباؤ برقرار

مسلسل بارشوں کے باعث ملک کے دریائی نظام پر بھی دباؤ برقرار ہے۔ فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کی 23 اگست صبح 6 بجے کی تازہ ہائیڈرولوجیکل رپورٹ کے مطابق کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ درمیانے درجے کی سیلابی کیفیت میں ہے جبکہ تربیلا، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر میں پانی کی سطح کم درجے کے سیلاب میں برقرار ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 4 لاکھ 14 ہزار 576 کیوسک جبکہ چشمہ کے مقام پر 3 لاکھ 77 ہزار 412 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تونسہ میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا خطرہ بھی موجود ہے۔

حالیہ صورتحال کئی ہفتوں سے جاری مون سون سرگرمیوں کا تسلسل ہے جس کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں دریائی اور شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی۔ گلگت بلتستان کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز سے آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے زمینی رابطوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

متعلقہ اداروں نے نشیبی اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے، دریاؤں، ندی نالوں اور زیر آب سڑکوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ جہاں انخلا کے احکامات جاری کیے جائیں وہاں شہریوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

مسافروں کو بھی خصوصاً پہاڑی علاقوں میں سفر سے پہلے موسم اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

بارش اور گرج چمک کی نئی لہر کے پیش نظر حساس اضلاع میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور شہری اداروں کو مکمل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام دریاؤں، نالوں اور شہری نکاسی آب کے نظام کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں گے۔

Related Posts