وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ جولائی 2026 میں پاکستان کی اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 13.1 فیصد اضافے کے ساتھ 3.94 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 3.48 ارب ڈالر تھیں۔
ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جولائی میں اشیا کی برآمدات بھی 9.4 فیصد بڑھ کر 3 ارب ڈالر ہوگئیں۔ برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ سرجیکل مصنوعات، غذائی اشیا، چمڑے کی مصنوعات اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کی بہتر کارکردگی رہی جن کی شرح نمو بالترتیب 16.3، 8، 7.8 اور 3.9 فیصد رہی۔
احسن اقبال کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ مالی سال میں اس میں 0.74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ بڑی صنعتوں کے 22 میں سے 16 شعبوں نے مثبت نمو حاصل کی جن میں آٹو موبائلز 57.8 فیصد اضافے کے ساتھ سرفہرست رہے، جبکہ ٹرانسپورٹ آلات، برقی آلات، تمباکو اور غذائی شعبوں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ جولائی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 8.4 فیصد اضافے سے 820.9 ارب روپے ہوگئیں جبکہ ترسیلات زر 13 فیصد بڑھ کر 3.63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جاری کھاتے کا خسارہ بھی گزشتہ سال کے 529 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہوکر 328 ملین ڈالر رہا۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد رہی جو مئی میں 11.7 فیصد تھی۔ دوسری جانب آئی سی ٹی برآمدات بڑھ کر 417 ملین ڈالر ہوگئیں جس سے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدی صلاحیت میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود رہا جو گزشتہ مالی سال کے 5.4 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی اور دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
ان کے مطابق جولائی 2026 میں منظور کیے گئے ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 7,851 براہ راست اور 14,053 بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ وزارت منصوبہ بندی نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے جولائی میں 211.327 ارب روپے، یعنی 21.1 فیصد، جاری کرنے کی منظوری دی۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت مالی سال 2026-27 میں معاشی بحالی برقرار رکھنے، مالی و بیرونی استحکام مضبوط کرنے، ساختی اصلاحات تیز کرنے، ترقیاتی اخراجات کی کارکردگی بہتر بنانے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی پر توجہ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت حکومت معاشی استحکام کو برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ روزگار، آمدنی اور نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہو۔
احسن اقبال نے مزید بتایا کہ سی ڈی ڈبلیو پی نے جولائی میں 9 منصوبوں، 3 پوزیشن پیپرز اور ایک کانسیپٹ کلیئرنس کی منظوری دی جبکہ 9 منصوبے ایکنک کو بھیجے گئے۔ تین منصوبے مؤخر اور ایک منصوبہ و ایک پوزیشن پیپر مزید غور کے لیے واپس کیے گئے۔ منصوبوں کے جائزے سے غیر ضروری اجزا کم کرکے جولائی میں 1.02 ارب روپے کی بچت بھی کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








