تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟ تازہ اعداد و شمار سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

تیل کی قیمت
(فوٹو: آن لائن)

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہوگیا۔ ایران کی جانب سے جہازوں کے خلاف نئی حکمت عملی اپنانے کی اطلاعات نے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

عالمی منڈی میں بدھ کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 63 سینٹ یعنی 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت 106.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ میں 66 سینٹ یعنی 0.7 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 94.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتیں ایک ڈالر سے زیادہ بڑھی تھیں تاہم بعد میں تیزی کی شدت کم ہوگئی اور قیمتوں میں جزوی کمی دیکھنے میں آئی۔

نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکواکا کے مطابق سعودی عرب اور حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس کا اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب روس سے ڈیزل کی برآمدات بڑھنے کی توقع عالمی منڈی میں رسد کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس پیش رفت کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ محدود رہنے کا امکان ہے۔

ہیرویوکی کیکواکا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت آئندہ عرصے میں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کی حدود میں رہ سکتی ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹیں قیمتوں کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

Related Posts