امریکا نے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع کردئیے، ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات میں کمی لانا ہے۔ امریکی فضائی حملوں سے جنگ بندی ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگئی۔
ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی اور جوابی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جون کے وسط میں جنگ بندی کیلئے مفاہمتی یادداشت کے بعد سے یہ اب تک کی شدید ترین کشیدگی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوب مشرقی ایرانی شہر کے ہوائی اڈے پر حملے میں ایک فائر فائٹر ہلاک ہوگیا جبکہ تازہ امریکی حملوں میں ایران شہر، بندر عباس، کنارک، چابہار اور بوشہرکو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹ کام نے تصدیق کی کہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے جارہے ہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران تجارتی بحری جہازوں اور ان کے عملے پر حالیہ حملوں کا ذمہ دار ہے جبکہ تجاری بحری جہاز عالمی آبی گزرگاہ سے آزادانہ طور پر گزرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی میڈیا نے تصدیق کی کہ امریکا کے اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق چابہار میں بحری نگرانی کا کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو امریکی حملوں کی زد میں آگیا جبکہ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ آق قلعہ میں ریلوے پل بھی امریکی حملے کا نشانہ بن گیا۔ خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے منگل کو بھی ایران پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے حملے کیے گئے تھے کہ یہ آبنائے ہرمز پر گزرنے والے 3 بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








