تنخواہ،پنشن میں اضافہ، سرکاری ملازمین کیلئے ایڈہاک پیکیج،8ہزار 487 ارب کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش

PTI govt presents Budget 2021-22, complete details

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 22- 2021کیلئے 8ہزار 487 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئندہ مالی سال کامیزانیہ ایوان میں پیش کیا۔وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے، بجٹ پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا جبکہ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

شوکت ترین کی تقریر:

budget 2021

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔

ماضی میں ایسی خراب صورتحال کا سامنا نہیں تھا، وزیراعظم کی قیادت میں معیشت کو بحران سے نکال کر لائے ،ہماری حکومت نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔

بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 20 ارب ڈالر پر تھا، 20 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس میں تبدیل کیا، سابق حکومت نے قرض لے کر زرمبادلہ ذخائر بڑھائے۔

ماضی میں شرح سود مصنوعی طور پر کم رکھی گئی،بڑا چیلنج ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا،گزشتہ دور میں درآمدات میں 100 فیصد اضافہ ہوا، 5.5 معاشی ترقی کا ڈھول پیٹا گیا لیکن بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا۔

فصلوں کی پیداوار سے کسانوں کی آمدن میں 32 فیصد اضافہ ہوا،احساس پروگرام کے ذریعے 12 ملین گھرانوں کی مدد کی گئی۔

کورونا کے باوجود فی کس آمدن 15 فیصد بڑھی،رواں سال برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا، چاول، گندم، کپاس کی پیداوار میں اضافے کیلئے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

زیتون کی کاشت بڑھانے کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے، آبی تحفظ کے لیے بجٹ میں 91 ارب روپے رکھے گئے، داسو ہائیڈرو پروجیکٹ کے لیے 57 ارب روپے رکھے گئے ۔دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 23 ارب روپے رکھے گئےنیلم جہلم پاور پروجیکٹ کیلئے 14 ارب روپے رکھے گئے۔

سی پیک کے نئے منصوبے 28 ارب ڈالر کے ہیں،عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں 180 فیصد اضافہ ہوا، 21 ارب ڈالر کے مزید 21 منصوبوں پر کام جاری ہے۔

زرعی شعبے کیلئے 12 ارب روپے مختص کیے، ٹڈی دل ایمرجنسی اور فوڈ سیکیورٹی کیلئے 12 ارب مختص کیے، آبی گزرگاہوں کی مرمت اور بہتری کیلئے 3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

آئندہ 2 سال میں 6 سے 7 فیصد گروتھ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں،ہر کاشتکار گھرانے کو ڈیڑھ لاکھ بلا سود قرض ملے گا،آئندہ سال ہر گھرانے کو صحت کارڈ دیا جائے گا۔

ملک میں ایک کروڑ مکانات کی کمی ہے، ہاؤسنگ پروگرام کی وجہ سے صنعتوں کو فروغ ملا، کم آمدنی والوں کو گھر بنانے کیلئے 3 لاکھ تک سبسڈی دے رہے ہیں، احساس پروگرام کے لیے 260 ارب تجویز کیے گئے۔

صوبوں اور وفاق کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 2 ہزار 135 ارب روپے ہے،کراچی کے لیے 739 ارب روپے مختص کیے گئے،عوامی منصوبوں پر صوبے ایک ہزار 235 ارب روپے خرچ کریں گے،ایم ایل ون کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے، چھوٹی صنعتوں کے فروغ کیلئے 12 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، ترقیاتی بجٹ 630 سے 900 ارب روپے کر رہے ہیں۔

بجلی کی ترسیل کیلئے 118 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،ہائر ایجوکیشن پر 66 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، پی آئی اے کو 20 اور پاکستان اسٹیل کو 16 ارب روپے دیئے جائیں گے۔

گلگت بلتستان کے لیے 47 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،آزاد کشمیر کے لیے 60 ارب روپے مختص کیے گئے،نئی مردم شماری کے لیے 5 ارب روپے مختص کئے ہیں ،بلدیاتی انتخابات کے لیے 5 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے بجلی پیدا کرنے کیلئے ساڑھے 5 ارب روپے رکھے گئے، سکینڈری ٹرانسمیشن لائنز حیدرآباد اور سکھر کیلئے 12 ارب روپے رکھے گئے، کوئلے کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کیلئے 22 ارب رکھے گئے ہیں۔

کورونا سے نمٹنے کیلئے 100 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جنوبی بلوچستان کی ترقی کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں،پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے، سندھ کی ترقی کیلئے 19.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ٹیلی کام سیکٹر کیلئے ایکسائز ڈیوٹی 17 سے 16 فیصد کردی گئی،موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے 14 ارب روپے مختص کیے گئے،850 سی سی گاڑیوں میں ساڑھے 4 فیصد ٹیکس کی چھوٹ دی جارہی ہے، آئی ٹی سیکٹر کو زیرو ریٹنگ کی سہولت دی جا رہی ہے۔

ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا، تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، سالانہ 10ملین سیلز والی صنعت کو سیلز ٹیکس کیلئے رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں، سبسڈی کا تخمینہ 682 ارب لگایا گیا ہے۔

ضم شدہ اضلاع کی صنعتوں کیلئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ دی جائیگی،خوردنی تیل، گھی اور فولاد کی مصنوعات پر فیڈرل ٹیکس واپس لے لیا گیاہے۔

جاری اخراجات 7 ہزار 523 ارب روپے رہنے کی امید ہے، کیپٹل گین ٹیکس 15 سے کم کر کے 12 اعشاریہ 5 فیصد کر دیا گیاہے،یکم جولائی سے ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا۔

یکم جولائی سے وفاقی حکومت کے پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ ہوگا،اردلی الاؤنس 14000 سے بڑھا کر 17500 ماہانہ کیا جارہا ہے،وفاقی اخراجات کا تخمینہ 8 ہزار 487 ارب روپے ہے،گریڈ 1سے 5 تک کے ملازمین کے انٹیگریٹڈ الاؤنس 450 سے 900روپے کیا جا رہا ہے۔

مزدور کی کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے کی جا رہی ہے، موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے،کتابوں، زرعی آلات کی درآمد پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے،ٹائروں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

کیپٹل گین ٹیکس
وفاقی حکومت نے ڈسپوزل آف سیکیورٹیز پر کیپٹل گین ٹیکس میں کمی کر دی ۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی کو بتایاکہ کووڈ19 وباء کی وجہ سے کیپٹل مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے ان دو سالوں میں سٹاک مارکیٹ کو ملنے والی مشکلات کو کم کرنے کیلئے تجویز ہے کہ کیپٹل گین ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد تک کردیا جائے۔

سروسز پر ٹیکس
وفاقی حکومت نے مختلف سروسز پر ٹیکس کی شرح میں کمی کر دی ۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایاکہ مختلف سروسز (خدمات) پر منافع کا مارجن کم ہے اور عائد ود ہولڈنگ شرح بہت زیادہ ہے جس سے ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تجویز ہے کہ آئل فیلڈ سروسز ، ویئر ہائوسنگ سروسز، سیکیورٹی سروسز، کولیٹرل مینجمنٹ سروسز اور ٹریول اینڈ ٹور سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو آٹھ فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کردیا جائے۔

تنخواہ اورپنشن
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافہ ،پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، طاقتور گروپس کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کیا جائے گا، مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کی جارہی ہے۔

دفاعی پیداوار
وفاقی حکومت نے مالی سال2021-22میں دفاعی پیداوار ڈویژن کے دو نئے منصوبوں کیلئے 1745ملین روپے اور ڈیفنس ڈویژن کے تین جاری اور 6 نئے منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 1977.635ملین روپے مختص کر دیئے ۔

پی ایس ڈی پی کے اعدادو شمار کے مطابق مالی سال2021-22میں دفاعی پیداوار ڈویژن کے دو نئے منصوبوں کیلئے 1745ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ، گوادر میں شپ یارڈ کی تعمیر کے لیے 245ملین روپے اور کراچی شپ یارڈ اور انجینئر نگ ورکس کی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لئے 1500ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اسی طرح ڈیفنس ڈویژن کے تین جاری اور 6 نئے منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 1977.635ملین روپے مختص کئے گئے ،6 جاری منصوبوں کے پہلے منصوبے کثیرالمقاصد عمارت کی تعمیر کے لیے 300 ملین روپے، نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کے لیے 700 ملین روپے جبکہ ایرو سپیس ٹیکنالوجی کے دور استعمال سے زرعی نظام میں بہتری کے لئے 400 ملین روپے سمیت دیگر منصوبوں کے لیے رقوم مختص کئے گئے ہیں۔

وزارت صحت
رواں مالی سال وزارت صحت کے لیے مختص رقم میں سے 39 فیصد فنڈز خرچ ہوئے ہیں، وزارت صحت کے جاری 23 منصوبے پی ایس ڈی پی میں پھر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں صحت سہولت پروگرام پر 32 سو ملین خرچ ہوئے، دیہی علاقوں میں صحت سہولت پروگرام پر 756 میں سے 162 ملین روپے خرچ ہوئے، وفاق میں 4 بی ایچ یوز کی تعمیر کیلئے مختص 204 میں سے 56 ملین روپے خرچ ہوئے۔

ذرائع کے مطابق محفوظ انتقال خون پروگرام کیلئے مختص 235 ملین میں سے صرف 19 ملین خرچ ہوئے، پمز شعبہ ریڈیالوجی کی اپ گریڈیشن کیلئے مختص 113 ملین میں سے 1 ملین خرچ ہوئے، پمز ایم سی ایچ اپ گریڈیشن کیلئے 854 میں سے 2 ملین روپے خرچ ہو سکے۔

ترقیاتی پروگرام
سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگراموں میں سرمایہ کاری بورڈ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 80 ملین روپے کے مختص کر دیئے گئے۔

پلاننگ کمیشن کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق آئندہ مالی سال2021-22 کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے 80 ملین روپے کے فنڈ مختص کر دیئے ۔

وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی
وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے 3 منصوبوں کیلئے 493 ملین روپے سے زائد رقم مختص کر دی گئی ۔ منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق کرتارپور صاحب کوریڈور کے زیرو لائن پر پل کی تعمیر 452 ملین سے زائد، جج کمپلیکس کوئٹہ چاردیواری کی تعمیر کے لئے 25 ملین سے زائد اور جج کمپلیکس لاہور کی تعمیر کے لئے پی سی۔ II کے لئے 15 ملین سے زائد کی رقم خرچ ہوگی ۔

پاور ڈویژن
وفاقی حکومت نے مالی سا ل2021-22 وفاقی بجٹ میں پاور ڈویژن کی غیر ملکی امداداور ملکی وسائل کی مختلف جاری اور نئی سکیموں کیلئے 102607.047ملین روپے رکھنے کااعلان کیا ہے۔

میر پور خاص میں ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب کے لئے1300ملین روپے ، مستونگ میں ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب کیلئے 2500 ملین روپے ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹرانمیشن لائنوں کی تنصیب کے لئے 2000 ملین روپے ، فیصل آباد میں ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب کیلئے 2350 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

تاجکستان اور پاکستان کے درمیان 500KV ٹرانسمیشن لائن کے لئے 2600 ملین ،500KV اسلا م آباد ویسٹ منصوبے کیلئے 5933 ملین روپے ،داسو پن بجلی منصوبے کے پہلے مرحلہ کے تحت بجلی کے حصول کے لئے 8500 ملین روپے ،تربیلافائیو توسیع منصوبے سے بجلی کے حصول کے لئے 2282 ملین روپے، جامشورو کول پاور پروجیکٹ کے لئے 22000 ملین روپے اوربجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے 1010ملین روپے کے فنڈز رکھے گئے ۔

موبائل فون کے استعمال پر وڈ ہولڈنگ ٹیکس
مالی سال 2021-22کے بجٹ میں موبائل فون کے استعمال پر وڈ ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کر دی گئی ۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موبائل سروسز پر موجودہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد ہے، عام شہری پر بوجھ کو کم کرنے کیلئے تجویز ہے کہ اگلے مالی سال کیلئے اس شرح کو کم کر کے دس فیصد کردیا جائے ، تجویز ہے کہ اس کو بتدریج 8 فیصد کم کردیا جائے۔

پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لیے بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر نے کااعلان کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لیے بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی بجٹ میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت ہمارا وژن بہت سادہ ہے ہم زیادہ منافع بخش پروگرام میں سرمایہ کاری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جس سے بود و باش میں بہتری آئے گی اور کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

زراعت ،ٹڈی دل ،فوڈ سیکورٹی پراجیکٹ
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اگلے سا ل زراعت کیلئے 12ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شوکت ترین نے فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے کہا کہ ہماری حکومت نے زراعت کے شعبے کو غیرمعمولی ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امسال گندم، چاول، گندے میں بہت زیادہ پیداوار ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی وجہ سے نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد لائیو اسٹاک اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مویشی، ماہی گیری، آپباشی کے شعبے کا اعادہ کیا جائے گا جبکہ ہم نے اگلے سال زراعت کیلئے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل اور فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہے اور وزیراعظم عمران خان چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے خواہاں ہیں۔

ڈیمز کی تعمیرات
وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تین بڑے ڈیمز کی تعمیرات ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ تین بڑے ڈیمز کی تعمیرات ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گے جس میں داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے لیے 57 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے 23 ارب روپے جبکہ مہمند ڈیم کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کے لیے 14 ارب روپے مختص کرنیکی تجویز کی گئی ہے۔

سی پیک
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت سے 17 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت سے 17 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 21 ارب ڈالر سے 21 منصوبے جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اسٹریجک نوعیت کے 26 منصوبے زیر غور ہیں جن کی مالیت 28 ارب ڈالر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ایل ون ایک اہم منصوبہ جس کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے جسے تین مراحلے میں مکمل کیا جائے گا، پیکج ون کا آغاز مارچ 2020 شروع ہوچکا جبکہ پیکیج ٹو جولائی 2021 اور پیکیج تھری جولائی 2022 میں شروع ہوگا۔شوکت ترین نے کہا کہ ہم ساری کی ساری بجلی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اس لیے ہماری سرمایہ کاری میں ترجیحات یہ ہوگی کہ اس چیلنج پر پورا اتریں۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بجٹ میں 118 ارب روپے مختص کیے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی میں کے ون اور کے ٹو منصوبے اور تربیلا ہائیڈرو پاور پلانٹ کی پانچویں توسیع کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کیے ہیں اس مقصد کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں اور اس میں درجن منصوبے شامل ہیں۔

بجلی کی ترسیل
وفاقی بجٹ میں بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لیے 118 ارب روپے مختص کئے گئے ۔ مالی سال 2021-22کے وفاقی بجٹ میں بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لیے 118 ارب روپے مختص کئے گئے ، رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور لاہور میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کے لیے ساڑھے سات ارب روپے رکھے گئے ہیں ،داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ساڑھے آٹھ ارب روپے مختص کئے گئے ۔

ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن
آئندہ مالی سال 2021-22 میں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے انفراسٹرکچر شعبے کے ترقیاتی منصوبوں موٹرویز، ہائی ویز، بین الصوبائی سڑکوں کی تعمیر، ایئرپورٹس اور ریلوے کے منصوبوں کیلئے 244 بلین کے فنڈز رکھے گئے ہیں ۔

پلاننگ کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے پراجیکٹ کیلئے 8.5 بلین، سکھر حیدرآبادر موٹر وے کی زمین کی خریداری کیلئے 4.6 بلین، ایسٹ بے ایکسپریس وے گوادر کیلئے 2.1 بلین، 210 کلومیٹر این۔ 50 یارک ساگو ڑوب کیلئے 1.6 بلین، ایم 8 خوشاب آواران خضدار سیکشن ٹو168 کلومیٹرکی تعمیر کے لئے 1.5 بلین، چترال بونی مستور شندور سڑک کیلئے 2 بلین اور پنجاب میں موٹروے سے منسلک سڑکوں کی تعمیر ، مین لائن ون ریلوے منصوبے کیلئے 6.2 بلین اورگوادر ایئرپورٹ کیلئے 1.1 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔