عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود شہباز حکومت نے پاکستان میں پیٹرول مہنگا کردیا تاہم ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے۔ حکومت کے تازہ فیصلے کے بعد پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو مزید بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے اسے 392.76 روپے سے بڑھا کر 393.64 روپے فی لیٹر کردیا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 88 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نیا ریٹ 397.76 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق 6 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت کے مقرر کردہ پیٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت ایکس ڈپو قیمتوں کا جائزہ لیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پلاٹس ریٹس، پریمیمز اور دیگر متعلقہ اخراجات میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخ مقرر کیے گئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی دوران عالمی مارکیٹ میں پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے اور جی سیون ممالک کی جانب سے سپلائی بڑھانے کے اقدامات نے عالمی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.10 ڈالر یعنی 1.08 فیصد کم ہوکر 101.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 89 سینٹ، یعنی 0.98 فیصد کمی کے بعد 90.22 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
شہباز حکومت نے اس سے قبل جمعہ کو بھی پیٹرول کی قیمت میں2 روپے10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا جس کے بعد پیٹرول 392.76 روپے فی لیٹر ہوگیا تھا۔
اسی فیصلے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 30 پیسے فی لیٹر بڑھا کر 399.64 روپے فی لیٹر کردی گئی تھی۔ یہ نرخ صرف تین روز کے لیے نافذ کیے گئے تھے۔
تازہ فیصلے کے بعد ایک طرف عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ دوسری جانب پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








