پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں یوٹیوب استعمال کرنے والوں کی تعداد9 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستانی صارفین روزانہ کروڑوں کی تعداد میں ویڈیوز دیکھتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ٹک ٹاک، یوٹیوب اور واٹس ایپ عوام کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
ٹک ٹاک کے 10 کروڑ اکاؤنٹس، یوٹیوب صارفین کی تعداد 9 کروڑ 60 لاکھ
حفیظ الرحمان کے مطابق پاکستان میں ٹک ٹاک کے تقریباً 10 کروڑ صارف اکاؤنٹس موجود ہیں جبکہ 15 کروڑ پاکستانی اس پلیٹ فارم پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یوٹیوب استعمال کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 96 ملین ہے اور ملک میں روزانہ یوٹیوب ویڈیوز کے 560 ملین ویوز ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ ان کے بقول دنیا بھر میں یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے کے حوالے سے پاکستان سرفہرست ہے۔
واٹس ایپ پر روزانہ ایک ارب کالز اور 12 ارب پیغامات
چیئرمین پی ٹی اے نے واٹس ایپ کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس پلیٹ فارم کے تقریباً 10 کروڑ صارف اکاؤنٹس ہیں۔
ان کے مطابق پاکستانی صارفین روزانہ واٹس ایپ کے ذریعے تقریباً ایک ارب کالز کرتے ہیں جبکہ روزانہ 12 ارب پیغامات بھی بھیجے جاتے ہیں۔
پاکستان میں 5 جی سروس کی توسیع کا اعلان
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے کہا کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملک میں ڈیٹا کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور کے بعد ملک میں اسپیکٹرم کی کوئی نیلامی نہیں ہوئی تھی۔ ان کے مطابق نواز شریف کے دور میں پاکستان کو 4G ٹیکنالوجی ملی، جبکہ موجودہ حکومت نے 5G کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی کی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں تقریباً 18 لاکھ افراد 5G استعمال کر رہے ہیں جبکہ 24 شہروں میں اس سروس کی فراہمی اور ٹیلی کام سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ٹیلی کام سروسز متاثر ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟
شزا فاطمہ نے ٹیلی کام خدمات میں تعطل اور خرابیوں کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہیں۔
ان کے مطابق کئی علاقوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ٹاورز سے آلات، ڈیزل اور جنریٹرز تک چوری کر لیے جاتے ہیں جس سے سروسز متاثر ہوتی ہیں اور صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








