پاکستان پر قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہوگیا! مجموعی قرضہ 90 ہزار 980 ارب روپے تک جا پہنچا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری اور حکومتی ضمانتوں کے تحت مجموعی قرضے جون 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 90 ہزار 980 ارب روپے ہوگئے جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 ہزار 210 ارب روپے یا 7.3 فیصد زیادہ ہیں۔

وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق جون 2025 میں ملک کے مجموعی قرضوں کا حجم 84 ہزار 770 ارب روپے تھا۔ قرضوں میں اضافے کے باوجود جی ڈی پی کے مقابلے میں ان کا تناسب 74.3 فیصد سے کم ہو کر 71.7 فیصد ہوگیا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی قرضوں میں 4 ہزار 930 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 56 ہزار 700 ارب روپے سے بڑھ کر 61 ہزار 650 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

حکام کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ شرح سود میں تبدیلی اور فلوٹنگ ریٹ والے قرضوں کا زیادہ تناسب ہے۔ ملکی قرضوں کی اوسط مدتِ تکمیل 3.8 سال جبکہ شرح سود پر نظرثانی کی اوسط مدت 1.4 سال رہی۔

اسی عرصے میں بیرونی قرضے بھی 1 ہزار 290 ارب روپے بڑھ کر 29 ہزار 350 ارب روپے ہوگئے۔ ان میں 60 فیصد فکسڈ اور 40 فیصد فلوٹنگ شرح سود پر مشتمل ہیں، جبکہ 90 فیصد بیرونی قرضے طویل مدتی ہیں۔

جون 2026 تک حکومتی ضمانتوں کے تحت واجب الادا قرضوں کا حجم 4 ہزار 280 ارب روپے رپورٹ کیا گیا۔ دوسری جانب مجموعی سرکاری قرضے 86 ہزار 700 ارب روپے ہوگئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.7 فیصد زیادہ ہیں تاہم پبلک ڈیٹ ٹو جی ڈی پی شرح 70.6 فیصد سے کم ہو کر 68.3 فیصد پر آگئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس کمی کی وجوہات میں جی ڈی پی میں اضافہ، وفاقی حکومت کا 2 ہزار 180 ارب روپے کا پرائمری سرپلس اور قرضوں کی واپسی کے اقدامات شامل ہیں۔

دریں اثنا قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔ مالی سال 2024-25 میں سود کی مد میں 8 ہزار 880 ارب روپے ادا کیے گئے تھے جو مالی سال 2025-26 میں کم ہو کر 6 ہزار 950 ارب روپے رہ گئے۔ اس طرح سودی ادائیگیوں میں 1 ہزار 940 ارب روپے یا 21.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

Related Posts