سندھ حکومت نے صوبے بھر میں گندم کی فی من امدادی قیمت 5 ہزار روپے سے کم کرکے 4 ہزار 500 روپے مقرر کردی ہے جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمت میں بھی 17 روپے فی کلو کمی متوقع ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے گندم کی قیمت میں 500 روپے فی من کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں پہلے ہی کمی کا رجحان دیکھا جارہا ہے اور گندم سستی ہونے سے عوام کو مزید فائدہ پہنچے گا۔
شرجیل میمن کے مطابق مہنگائی کے دباؤ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اسی مقصد کے تحت گندم کی نئی قیمت مقرر کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی آئندہ سال 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا جو گزشتہ سال کی مقرر کردہ 3 ہزار 500 روپے فی من قیمت کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق گندم کی نئی مجوزہ قیمت کا تعین مشاورت کے بعد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تجاویز اور تعاون کو سراہا گیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے کردار پر بھی وزیراعظم نے اظہار تشکر کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گندم کی قیمت میں اضافے کا بنیادی مقصد کسانوں کو مہنگی پیداواری لاگت، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور عمومی مہنگائی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے کاشت کاروں کو گندم کی کاشت کی جانب راغب کرنے اور زرعی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








