پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں براڈ بینڈ، فائبر نیٹ ورک اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان کو تقریباً 300 ضلعی سطح کے کلاس لائسنس جاری کردیے ہیں۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق ان لائسنسز کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا کے اضلاع میں جاری کی گئی تاکہ چھوٹے اور مقامی آپریٹرز بڑے شہروں سے باہر بھی انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرسکیں۔
ضلعی لائسنسنگ فریم ورک یکم جنوری 2026 سے نافذ ہے، جس کے تحت کمپنیوں کو پورے ملک یا صوبے کے بجائے مخصوص ضلع میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس نظام کا مقصد مقامی سرمایہ کاری بڑھانے اور کم سہولیات والے علاقوں میں براڈ بینڈ کی رسائی بہتر بنانا ہے۔
ہر کلاس لائسنس کی مدت 10 سال ہے جبکہ ابتدائی لائسنس فیس 3 لاکھ روپے اور پہلے سال کی سالانہ فیس 1 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ درخواست کی پروسیسنگ فیس 20 ہزار روپے ہے جبکہ بعد کے برسوں میں سالانہ فیس میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔
لائسنس حاصل کرنے والے آپریٹرز کو ایک سال کے اندر سروس شروع کرنا لازمی ہوگا۔ پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام سے دور دراز اضلاع میں فائبر کیبل کی تنصیب، لاسٹ مائل کنیکٹیویٹی اور انٹرنیٹ کی دستیابی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
رواں سال لاہور، سرگودھا، فیصل آباد، اسلام آباد، اٹک، جنوبی وزیرستان اور لوئر چترال سمیت مختلف اضلاع میں بھی ایسے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ پی ٹی اے ضلعی سطح کے اس ماڈل کو چھوٹے آپریٹرز کے لیے مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں کم کرنے اور براڈ بینڈ شعبے میں مسابقت بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








