نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے اندراج اور شناختی دستاویزات کے حصول کو مزید آسان بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا دی جس میں فنگر پرنٹس، تصویر، بائیومیٹرک معلومات اور آئرس اسکین سمیت متعدد سہولیات شامل ہیں۔
نادرا حکام کے مطابق جدید آلات کی تیاری میں ادارے کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی نادرا ٹیکنالوجی لمیٹڈ کا کردار ہے۔ ان آلات میں ٹیبلٹ نما ڈیوائس، رگڈ انرولمنٹ کِٹ اور سیلف سروس کیوسک شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ٹیبلٹ نما ڈیوائس کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا درج کرنے کے ساتھ فنگر پرنٹس لینے، تصویر بنانے اور آئرس اسکین کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
نادرا نے ایک بڑی ڈیوائس بھی تیار کی ہے جسے رگڈ انرولمنٹ کِٹ کہا جاتا ہے۔ یہ کِٹ بیک وقت بڑی تعداد میں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جسے بالخصوص ایسے دور دراز علاقوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں بجلی یا انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا دستیاب نہیں۔
اس کے علاوہ سیلف سروس کیوسک بھی متعارف کروائے گئے ہیں جو اے ٹی ایم کی طرز پر کام کریں گے۔ ان کی مدد سے شہری خود اپنی معلومات درج کرکے متعلقہ شناختی کارڈ کے دوبارہ اجرا کا عمل مکمل کرسکیں گے۔
فنگر پرنٹ مدھم ہونے والوں کے لیے متبادل بائیومیٹرک سہولت
نادرا حکام کے مطابق ایسے شہریوں کے لیے بھی متبادل بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کی گئی ہے جن کے فنگر پرنٹس مدھم ہونے یا کسی اور وجہ سے بائیومیٹرک مشین پر درست طور پر شناخت نہیں ہو پاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو فنگر پرنٹس کی شناخت نہ ہونے کے باعث مختلف اداروں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خصوصاً بینکوں میں بائیومیٹرک تصدیق کے دوران یہ مسئلہ سامنے آتا ہے۔
نئی سہولت کے ذریعے ایسے شہری متبادل طریقہ کار سے اپنی شناخت کی تصدیق کراسکیں گے جس سے فنگر پرنٹ کی شناخت میں دشواری کے باعث پیش آنے والے مسائل کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
نادرا کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد شہریوں کو شناختی خدمات تک زیادہ آسان رسائی فراہم کرنا اور شناختی دستاویزات کے حصول اور تصدیق کے عمل کو مزید سہل بنانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








