نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل) نے مالی سال 2025-26 میں نمایاں مالی بہتری کے ساتھ 6.16 ارب روپے خالص منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سال کمپنی کو 14.87 ارب روپے خسارہ ہوا تھا۔ بہتر ریفائننگ مارجنز کے باعث کمپنی خسارے سے منافع میں واپس آئی تاہم شیئر ہولڈرز کے لیے اس سال بھی کیش ڈیویڈنڈ، بونس شیئرز اور رائٹ شیئرز کی سفارش نہیں کی گئی۔
25 اگست 2026 کو راولپنڈی میں ہونے والے بورڈ اجلاس میں مالی نتائج کی منظوری دی گئی۔ کمپنی کا سالانہ جنرل اجلاس 30 ستمبر کو صبح 10 بجے کراچی میں ہوگا جبکہ شیئر ٹرانسفر بکس 23 سے 30 ستمبر تک بند رہیں گی۔
کمپنی کا ٹیکس سے قبل منافع 10.21 ارب روپے رہاجو گزشتہ سال 18.44 ارب روپے کے خسارے کے مقابلے میں بڑی بہتری ہے۔ فی شیئر آمدن بھی منفی 185.91 روپے سے بڑھ کر 77.09 روپے ہوگئی، جبکہ ٹیکس اور لیویز سے قبل منافع 10.88 ارب روپے رہا۔
این آر ایل کی آمدن 44.2 فیصد اضافے کے ساتھ 588.55 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ خالص آمدن 440.84 ارب روپے رہی۔ کمپنی نے گزشتہ سال کے 6.23 ارب روپے کے مجموعی خسارے کے مقابلے میں رواں سال 23.54 ارب روپے مجموعی منافع کمایا جبکہ آپریٹنگ خسارہ بھی 7.70 ارب روپے سے تبدیل ہوکر 20.16 ارب روپے منافع میں آگیا۔
30 جون 2026 تک کمپنی کے اثاثے بڑھ کر 166.24 ارب روپے اور ایکویٹی 56.45 ارب روپے ہوگئی۔ طویل مدتی قرض 11.25 ارب سے کم ہوکر 3.75 ارب روپے رہا جبکہ مجموعی واجبات 109.79 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔
آپریٹنگ سرگرمیوں سے کمپنی نے 15.42 ارب روپے خالص نقد رقم حاصل کی جبکہ گزشتہ سال 6.21 ارب روپے نقد خرچ ہوئے تھے۔ سال کے اختتام پر قرض منہا کرنے کے بعد نقد پوزیشن منفی 6.43 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے منفی 23.10 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








