پاکستانی اداکارہ اور ڈیجیٹل کریئیٹر کرن اشفاق نے اپنی بولڈ ویڈیو پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ عمران اشرف کا نام لینے پر اداکارہ نے سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آگے بڑھ چکی ہوں، آپ اس کا نام نہ لیں جس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کونٹینٹ کرئیٹر کرن اشفاق ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔ سابق شوہر اور اداکار عمران اشرف سے متعلق ایک صارف کے تبصرے پر ان کے جواب نے مداحوں کے درمیان نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اداکارہ کرن اشفاق نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ ایک معروف اور مہنگے لگژری برانڈ کے اسٹور کے باہر بولڈ لباس میں پوز دیتی ہوئی نظر آئیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آرا سامنے آئیں۔
اپنے پُراعتماد اور بے باک انداز کے باعث پہچانی جانے والی کرن کو ویڈیو پر بعض صارفین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے تبصروں میں ان کی ذاتی زندگی اور سابق شوہر عمران اشرف کا حوالہ دیتے ہوئے بحث کو مزید بڑھا دیا۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں دعویٰ کیا کہ شاید کرن نے عمران اشرف سے اس لیے علیحدگی اختیار کی کیونکہ وہ انہیں مہنگی اشیا خریدنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی نہیں دیتے تھے۔ اس تبصرے پر کرن اشفاق نے سخت ردعمل دیا۔
تنقید کرنے والے شخص کو جواب دیتے ہوئے کرن اشفاق نے کہا کہ براہِ کرم ایسے شخص کا نام ان کی پروفائل پر نہ لیا جائے، جس سے اب ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ سابق شوہر کا نام ان کی پروفائل پر دوبارہ سامنے آئے۔
ایک دوسرے صارف نے عمران اشرف کا ذکر کرتے ہوئے کرن سے کہا کہ اب انہیں سمجھ آگیا ہے کہ عمران نے انہیں طلاق کیوں دی۔ اس پر کرن نے مختصر لیکن معنی خیز انداز میں جواب دیا کہ “قسم سے۔ یہی وجہ تھی”۔ جسے صارفین نے مختلف انداز میں لیا۔
کرن اشفاق پاکستان کی معروف ٹی وی اداکارہ اور سوشل میڈیا شخصیت ہیں، جو اپنے پُراعتماد انداز کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ اس وقت حمزہ علی چوہدری کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزار رہی ہیں اور ان کے دو بچے ہیں، جن میں ایک بیٹا روحام عمران اشرف سے اور ایک بیٹی حمزہ سے ہے۔
خیال رہے کہ کرن اور عمران اشرف کی ازدواجی زندگی تقریباً چار سال جاری رہی، جس کے بعد دونوں نے 18 اکتوبر 2022 کو علیحدگی اور طلاق کا اعلان کیا۔ کرن ماضی میں یہ مؤقف بھی بیان کرچکی ہیں کہ عمران کی سوچ نسبتاً روایتی تھی اور ان کے مطابق انہیں میڈیا میں کام کرنے سے روکا جاتا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








