پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے ممکنہ فشنگ اور میل ویئر حملوں کے حوالے سے ہائی الرٹ ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بظاہر سرکاری دستاویزات دکھائی دینے والی نقصان دہ فائلیں ونڈوز کمپیوٹرز کو متاثر کرکے حساس معلومات تک غیر مجاز رسائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق سائبر حملہ آور سرکاری افسران اور مختلف محکموں کی شناخت استعمال کرکے ایسی فائلیں بھیج سکتے ہیں جو دیکھنے میں سرکاری دستاویزات جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ ان فائلوں کو کھولنے سے کمپیوٹر سسٹم کی سکیورٹی متاثر ہونے اور اہم معلومات افشا ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ہیکرز پاس ورڈز اور حساس معلومات چوری کرسکتے ہیں
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی سسٹم نقصان دہ فائل سے متاثر ہوجائے تو حملہ آور اسے دور بیٹھ کر کنٹرول کرنے، پاس ورڈز چرانے اور خفیہ ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
ایڈوائزری میں واٹس ایپ ویب کے سیشنز ہائی جیک کیے جانے کے خطرے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایسی صورت میں حملہ آور صارف کے اکاؤنٹ یا شناخت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس کے رابطوں کو جعلی پیغامات بھیج سکتے ہیں۔
واٹس ایپ پر کن علامات کو نظرانداز نہ کریں؟
سائبر سکیورٹی ادارے کے مطابق اگر کسی جاننے والے نمبر سے اچانک غیر متوقع پیغام یا فائل موصول ہو تو اسے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اسی طرح واٹس ایپ کے Linked Devices سیکشن میں کسی نامعلوم ڈیوائس کا ظاہر ہونا بھی غیر مجاز رسائی کی علامت ہوسکتا ہے۔
صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی مشکوک پیغام میں موجود لنک یا فائل کھولنے سے پہلے بھیجنے والے کی شناخت کی الگ ذریعے سے تصدیق کریں۔
سرکاری معلومات سنبھالنے والے افسران کے لیے اہم ہدایت
ایڈوائزری میں حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے سرکاری افسران کو خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ونڈوز کمپیوٹرز پر واٹس ایپ ویب اور واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اس کے علاوہ اگر کسی صارف کو واٹس ایپ ویب کے کسی سیشن پر شبہ ہو تو اسے فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صارفین کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ سے موصول ہونے والی فائلیں سرکاری ونڈوز کمپیوٹرز پر منتقل کرنے سے گریز کریں۔
سائبر حملوں سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کریں؟
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے صارفین کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے:
مشکوک لنکس، غیر متوقع فائلوں اور نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والی دستاویزات کو نہ کھولیں۔
اپنا پاس ورڈ، ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) یا تصدیقی کوڈ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
ونڈوز، ویب براؤزرز اور دیگر سافٹ ویئر کو تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھیں۔
اپنے اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن اور واٹس ایپ کا ٹو اسٹیپ ویریفکیشن فیچر فعال کریں۔
واٹس ایپ کے لنکڈ ڈیوائسز سیکشن میں موجود ڈیوائسز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور نامعلوم ڈیوائس کو ہٹا دیں۔
غیر متوقع پیغامات کی تصدیق کے لیے بھیجنے والے سے کسی دوسرے قابلِ اعتماد ذریعے سے رابطہ کریں۔
اگر کمپیوٹر یا اکاؤنٹ ہیک ہونے کا شبہ ہو تو کیا کریں؟
ایڈوائزری کے مطابق اگر کسی ڈیوائس کے متاثر ہونے کا شبہ ہو تو اسے فوری طور پر انٹرنیٹ اور دوسرے نیٹ ورکس سے منقطع کردینا چاہیے۔ متعلقہ پیغامات اور سسٹم لاگز کو ممکنہ ثبوت کے طور پر محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
متاثرہ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مشکوک فائلوں کو دوبارہ کھولنے سے گریز کریں اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے متعلقہ سسٹم کی سکیورٹی جانچ کروائیں۔
سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی عمومی ہدایات کے مطابق، ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے بروقت سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، مضبوط تصدیقی نظام اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری نشاندہی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








