نیوزی لینڈ ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کو مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ فراہم کر رہا ہے۔ اس کے لیے Skilled Migrant Category Resident Visa متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اہل امیدوار نیوزی لینڈ میں غیر معینہ مدت تک رہائش، کام اور تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
اس ویزا درخواست میں امیدوار اپنے شریکِ حیات اور 24 سال یا اس سے کم عمر زیر کفالت بچوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔
اہلیت کے تقاضے:
درخواست دینے والے کی عمر 55 سال یا اس سے کم ہونی چاہیے۔ انہیں صحت اور کردار سے متعلق شرائط پوری کرنا ہوں گی، انگریزی زبان پر عبور ثابت کرنا ہوگا، جبکہ ان کے پاس کسی منظور شدہ ادارے (Accredited Employer) سے مکمل وقت کی ہنرمند ملازمت یا ملازمت کی پیشکش ہونا ضروری ہے۔
امیدوار کے لیے نیوزی لینڈ کے پوائنٹس پر مبنی امیگریشن نظام کے تحت کم از کم 6 پوائنٹس حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔
ملازمت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہفتے میں کم از کم 30 گھنٹے کی ہو اور مستقل، کم از کم 12 ماہ کے مقررہ معاہدے یا مسلسل 6 ماہ کے کنٹریکٹ پر مبنی ہو۔
کچھ شعبوں میں کام کرنے والے امیدواروں کو قومی اوسط اجرت (Median Wage) سے منسلک کم از کم تنخواہ کی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔
پوائنٹس سسٹم:
نیوزی لینڈ کا پوائنٹس نظام پیشہ ورانہ رجسٹریشن، تعلیمی قابلیت یا آمدنی کی بنیاد پر 3 سے 6 پوائنٹس دیتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں حاصل کیا گیا ہنرمند کام کا تجربہ اضافی پوائنٹس دلا سکتا ہے۔
پی ایچ ڈی (Doctoral Degree) رکھنے والے امیدوار زیادہ سے زیادہ 6 پوائنٹس حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ زیادہ آمدنی بھی اضافی پوائنٹس کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ:
سب سے پہلے امیدوار کو ملازمت کی پیشکش اور 6 پوائنٹس کی شرط پوری کرنے کے بعد Expression of Interest (EOI) جمع کرانا ہوگا۔
منتخب امیدواروں کو درخواست دینے کی دعوت (Invitation to Apply) دی جائے گی، جس کے بعد انہیں چار ماہ کے اندر مکمل دستاویزات کے ساتھ درخواست جمع کرانی ہوگی۔
ضروری دستاویزات میں پاسپورٹ، میڈیکل سرٹیفکیٹ، پولیس کلیئرنس، انگریزی زبان کا ثبوت اور پوائنٹس کے دعوے سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔
ویزہ فیس کم از کم 6 ہزار 450 نیوزی لینڈ ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔ جو افراد اس ویزا پر مسلسل دو سال تک رہتے ہیں، وہ مستقل رہائشی ویزا (Permanent Resident Visa) کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں نیوزی لینڈ آنے جانے میں مستقل آزادی حاصل ہوتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








