فیک نیوز نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟

How does a fake news network work?

 انٹرنیٹ کی آمد کے ساتھ دنیا بھر میں اطلاعات کی فراہمی کے نظام میں انقلاب آچکاہے، معلومات تک رسائی نہ صرف برق رفتار ہوگئی بلکہ اس کی پہنچ ایک خاص طبقے سے نکل کر ہر ہر گھر تک ہوگئی ہے۔

موبائل فون کی ایجاد اور اسمارٹ فون کی تخلیق کے بعد اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگیا، آج سے محض بیس یا تیس سال پہلے ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات تک محدود خبریں اور اطلاعات اب ہر ہر فرد کی پہنچ میں ہیں اور اس میں عمر، جنس اور معاشی طبقاتی تقسیم بھی حائل نہیں، سب پردے گر چکے، جو فرد چاہے جس طرح کا مواد دیکھنا یا پڑھنا چاہے، اس کی ایک انگلی کی حرکت سے دستیاب ہوجاتا ہے۔

معلومات کی اس برق رفتار فراہمی اور فراوانی نے کئی معاشرتی مسائل کو جنم دیا جن پر بحث کا یہاں موقع نہیں ہے، مگر معلومات کی اس بلا روک ٹوک فراہمی نے خبر کی تصدیق کے لئے روایتی میڈیا پر لگے تمام تر فلٹرز کو بھی منہدم کردیا۔

انٹرنیٹ پر دستیاب بیشتر مواد بالعموم کسی تصدیق کے مرحلے سے نہیں گزرتا اور نہ ہی کسی قانون کی زد میں آتا ہے علاوہ یہ کہ کوئی ایسا غیرقانونی مواد ہو جس کی نشاندہی کی جاچکی ہو اور متعلقہ ادارے اس کی بیخ کنی پر کمر بستہ ہوجائیں، وگرنہ جو مرضی سچ جھوٹ بنا کر انٹرنیٹ پر ڈال دیں، نہ کسی تصدیق کی ضرورت ہے، نہ کوئی جوابدہی ہے، نہ ہی کسی قانون کا خوف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے ممالک کے لئے انٹرنیٹ سے جنم لینی والی جعلی خبریں درد سر بنی ہوئی ہیں۔

یوں تو کچھ لوگ یہ جعلی مواد انفرادی حیثیت میں کسی ذاتی مقصد کے حصول کے لئے تخلیق کرتے ہیں، جیسا کہ مالی دھوکہ دہی وغیرہ مگر کچھ اداروں اور تنظیموں نے اس جعلی سازی کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا ہے، ان تنظیموں میں اسرائیلی موساد، امریکی سی آئی اے، روسی خفیہ تنظیم ایس آر وی اور ایرانی پاسداران انقلاب وغیرہ سرِفہرست ہیں۔

ان اداروں کے زیر تربیت کئی غیر سرکاری تنظیموں جن میں سیاسی اور مسلح مزاحمتی دونوں طرح کی تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی اس فن میں مہارت حاصل کرلی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ فیس بک اور ٹویٹروغیرہ کے عروج نے اس فن کو نئی جہتیں عطا کردی ہیں، اب سیاسی جماعتیں منظم انتخابی مہم کے لئے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لیتی ہیں اس سلسلے کی سب سے بڑی مہم امریکی صدارتی انتخابات میں چلائی گئی۔

مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں کامیابی کے لئے منظم پروپیگنڈہ مہم چلائی اور صارفین کی پسند، نا پسند کا مکمل ڈیٹا حاصل کرکے اس کی بنیاد پر مہم ترتیب دی اور اپنے سے کئی گنا تجربہ کار اور مضبوط امیدوار ہیلری کلنٹن کو شکست دی۔ بھارت سمیت دوسرے کئی ممالک کی بڑی سیاسی جماعتوں مثلاً بی جے پی وغیرہ کی طرف سے بھی ایسے اداروں کی خدمات لیئے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان میں پی ٹی آئی نے اس فن کو نئی معراج عطا کی ہے، پی ٹی آئی اور عمران خان کو سیاسی طور پر لانچ کرنے کا کام کئی دہائیوں پر مشتمل ہے، اس سلسلے میں پہلی کوشش نوے کی دہائی کے آغاز میں کی گئی تاہم ساز گار حالات نہ ملنے اور اس دور کی اہم سیاسی اور سماجی شخصیات کے اس پراجیکٹ میں شمولیت سے انکار پر یہ ابتدائی کوشش ناکام ہوگئی۔

دوسری کوشش دوہزار عیسوی میں پرویز مشرف کے زمانے میں ہوئی تاہم پرویز مشرف اور عمران خان کی بڑھی ہوئی انا کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی مگر پرویز مشرف ایک ایسی سیاسی میراث بطور خام مال چھوڑ گئے، جس پر موجودہ پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی گئی۔

تیسری اور حتمی کوشش 2011 میں شروع ہوئی اور سات سال بعد پی ٹی آئی کی عام انتخابات میں کامیابی اور عمران خان کی وزارت عظمیٰ پر منتج ہوئی اور اس کامیابی کا سہرا بلاشبہ سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔ (پس پردہ قوتوں کا تذکرہ جان بوجھ کر نہیں کیا جا رہا ہے)
سوشل میڈیا کے ذریعے اتنا بڑا ہدف کیسے حاصل کیا گیا، اس طریقہ واردات کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔

جعلی عالمی خبر رساں ویب سائٹس
فیک نیوز نیٹ ورک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار جعلی خبررساں ویب سائٹس ادا کرتی ہیں، مختلف اصلی خبر رساں اداروں سے ملتے جلتے نام رکھے جاتے ہیں اور بہت محنت سے ان پر مصدقہ خبروں، واقعات اور تحقیقاتی مواد اس طرح اپلوڈ کیا جاتا ہے کہ ایک عام پڑھنے والا اسے ایک اعلیٰ درجے کا عالمی اخبار یا جریدہ سمجھتا ہے۔

مثلاً عرب دنیا کا معروف اخبار خلیج ٹائمز یا گلف نیوز ہیں، اس مناسبت سے خلیج میگ اور گلف میگ کے نام سے جعلی ویب سائٹس بنائی جاتی ہیں جن پر معمول کے مطابق روزانہ عام اخبار یا جریدے کی طرز پر خبریں اپلوڈ کی جاتی ہیں اور وقفے وقفے سے اصلی خبروں کے درمیان کوئی ایسی خبر لگا دی جاتی ہے جس سے کسی خاص ہدف کا حصول مقصود ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک خبر جو آپ سب کی نظر سے گزری ہوگی اور یاد داشت کا حصہ بھی ہوگی کہ عمران خان کو مسلم دنیا کا سب سے متاثر کن رہنما قرار دے دیا گیا ہے، یہ خبر خلیج میگ نامی ایک ایسی ہی جعلی خبررساں ویب سائٹ کے ذریعے جاری کی گئی۔ پھر اس خبر کو ٹویٹر پر اسی جعلی میگزین کے نام سے بنائے گئے ہینڈل سے شیئر کیا جاتا ہے۔

جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، گروپس، صفحات، یوٹیوب چینلز:
فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ جیسے سماجی رابطہ پلیٹ فارمز پر ہزاروں کی تعداد میں یوٹیوب چینلز، جعلی اکاؤنٹس، صفحات اور گروپس بنائے جاتے ہیں، ان میں کچھ بظاہر بے ضرر دکھائی دینے والے کھیلوں، موسیقی یا تفریح وغیرہ کے نام پر ہوتے ہیں، کچھ مقبول سیاسی و سماجی مسائل پر بنائے جاتے ہیں جیسا کہ کشمیر یا فلسطین وغیرہ، کچھ پارٹی یا رہنماؤں کے پرستار یا فین پیج ہوتے ہیں جو تشہیر تو پارٹی یا رہنما کی کرتے ہیں مگر کسی واردات کے پکڑے جانے پر اس کی ذمہ داری پارٹی یا رہنما پر نہیں ڈالی جا سکتی کیوں کہ قانونی نکتہ نظر سے یہ گروپ یا پیچ کوئی فین یا پرستار چلا رہا ہوتا ہے۔

کچھ اکاؤنٹس یا صفحات یا گروپس جنسی مواد اور لڑکیوں کی تصاویر یا ایسے ہی دوسرے حربے استعمال کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں یا صارفین کی توجہ حاصل کی جاسکے، زیادہ تر اکاؤنٹس اور صفحات یا گروپس چلانے والے بظاہرخواتین ہوتے یا ہوتی ہیں، خواتین کے نام پر اکثر نوجوان ان اکاؤنٹس یا صفحات کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔

جب ممبرشپ یا ناظرین و حاضرین کی تعداد ایک خاص حد تک بڑھ جائے تو یہ جعلی اکاؤنٹس یا صفحات یا گروپس عمومی مواد کے درمیان جعلی ویب سائٹس کی جاری کی گئی جعلی خبر کو آگے بڑھانے کا کام کرتے ہیں اور آپ کو آپ کی فرینڈ لسٹ میں کسی لڑکی یا کسی گروپ یا صفحہ پر باقاعدہ عالمی جریدے کے لنک کے ساتھ ایک بظاہر دل لبھانے والی خبر نظر آتی ہے۔

اگر آپ تصدیق کے لئے لنک پر کلک بھی کریں تو باقاعدہ ویب سائٹ پر پہنچ جائیں گے، جو سرسری نظر میں عالمی اداروں مثلاً بی بی سی یا سی این این یا مقامی سطح پر جنگ یا ڈان جیسے کسی اخبار یا جریدے کی ویب سائٹ معلوم ہوتی ہے، ایک عام قاری اس سے زیادہ تصدیق یا تحقیق کے کسی جھمیلے میں نہیں پڑتا اور اس خبر کو آگے بڑھا دیتا ہے، یوں ایک جعلی خبر آپ کے اصلی اکاؤنٹ کے ذریعے آپ کے کئی اصلی دوستوں تک پہنچ جاتی ہے، جو انجانے میں اسے مزید آگے بڑھا دیتے ہیں، یوں وہ سوشل میڈیا کی اصطلاح میں وائرل ہوجاتی ہے۔

آٹو باٹس:
اس جعلی خبر کو مزید بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور اسے ٹویٹر کی اصطلاح میں ٹاپ ٹرینڈ بنانے کے لئے ایک اور ٹیکنیک کا استعمال ہوتا ہے، جسے عرف عام میں آٹو باٹس کہا جاتا ہے، یہ ایک خاص سافٹ ویئر کے ذریعے ایک ہی ٹویٹ یا پوسٹ کو ایک ہی وقت میں ہزاروں جعلی اکاونٹس سے ٹویٹ، ریٹویٹ یا پوسٹ کرنے کا فن ہے، آپ میں سے کس کس کوچند سال پہلے کامران کے ماموں کی کہانی یاد ہے جوعمران خان کی کوششوں کی بدولت سعودیہ جیل سے رہا ہو کر پاکستان آگیا تھا، ایک ہی پیغام ایک ہی نام ہزاروں مختلف اکاؤنٹس سے ٹویٹ ہوا اور یوں لگا کہ جیسے ہزاروں کامران رہا ہوکر آگئے ہوں بلکہ یوں کہیں کہ اس ایک ٹویٹ کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کو ماموں بنا دیا گیا۔

جعلی فالورز:
یہی سارے جعلی اکاؤنٹس اور آٹو باٹس کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کے پیغام کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں استعمال ہوتے ہیں اور اگر آپ کی ایک سوشل میڈیا ٹیم ہے جس کے پاس مندرجہ بالا تمام اوزار یا ٹولز دستیاب ہیں تو آپ راتوں رات لاکھوں فالورز حاصل کرسکتے ہیں، لسٹیں یا فہرستیں بنائی جاتی ہیں، جس فرد کا اکاؤنٹ فہرست میں شامل ہو، تمام جعلی اکاؤنٹس اور آٹو باٹس اس اکاؤنٹ کو فالو کرلیتے ہیں، یوں فہرست میں شامل ہر اکاؤنٹ ہزاروں یا لاکھوں فالووز تک پہنچ جاتا ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا پر اکاونٹس کا وزن یا اہمیت اس کے فالوورز سے ہوتی ہے، جس طرح پاکستان میں رویتی اخبارات کی رینکنگ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن یا ABCکی سند سے مشروط تھی،اس لئے یہ اکاونٹس سر فہرست آ جاتے ہیں۔

اگر آپ عمران خان کا ٹویٹر یا انسٹاگرام اکاؤنٹ چیک کریں تو ان کے فالوورز کروڑوں میں ہیں لیکن اگر آپ ایک ایک فالوور کو چیک کرنا شروع کریں تو اکثر یہی جعلی اکاونٹس ہوں گے اور اگر آپ عمران خان کی ٹویٹ پر ریٹویٹ اور جوابات کو شمار کریں تو وہ چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوتے، اس کا مطلب ہے کہ فالوورز تو کروڑوں ہیں مگر اصل چند ہزار ہی ہیں۔

ایک بار جو کہانی وائرل ہوجائے جلد یا بدیر اور اے آر وائی یا بول جیسے کسی مین اسٹریم چینل سے نشر کردی جاتی ہے، تو گویا اس پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی، اب بھائی لوگ دیوانہ وار اس چینل کی فوٹیج کے ساتھ پوسٹس بنا کر شیئر کرنا شروع کردیئے ہیں بغیر سوچے سمجھے کہ چینل کے ذرائع اور معیار کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھی کئی اور تیکنیکس یا ٹولز ہیں مگر طوالت کے ڈر سے تمام اس تحریر میں شامل نہیں کئے جاسکتے گو کہ پی ٹی آئی نے پاکستان میں فیک نیوز اور سوشل میڈیا پروپیگنڈہ کو بام عروج پر پہنچایا ہے، دیگر سیاسی جماعتیں بھی اب اس کا استعمال کر رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کا پیغام ایمپلی فائی یا دو رس یوں ہوگیا کہ کئی ادارے بھی خفیہ طور پر پی ٹی آئی کے فیک نیوز نیٹ ورک اور سوشل میڈیا ٹیم کی معاونت میں اپنی ٹیموں کے ذریعے مہمات چلاتے رہے، بالخصوص مخالف سیاسی رہنماؤں کی کردار کشی کی مہمات۔
وما علینا الا البلاغ المبین

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں