مغوی اذان کیس کا معما حل، والد کا قریبی دوست ملوث نکلا، تمام ملزمان گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کی ضلع غربی پولیس نے ڈھائی سالہ بچے اذان علی خان کے اغوا کا معما حل کرتے ہوئے مبینہ مرکزی ملزم سمیت تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا اور بچے کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

ایس ایس پی ضلع غربی طارق الٰہی مستوئی کے مطابق اغوا کی منصوبہ بندی اور کارروائی کا مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد احتشام تھا، جو بچے کے والد کا قریبی دوست بھی ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں محمد احتشام ولد عمران خان، جو مبینہ طور پر اغوا کا مرکزی کردار اور منصوبہ ساز تھا۔ عبدالوهاب ولد محمد اشفاق، جو احتشام کا سالا بتایا گیا ہے۔ افتخار احمد ولد عبد الکریم، جس پر الزام ہے کہ اس نے بچے کو گھارو کے قریب چھپانے میں مدد فراہم کی۔

پولیس کے مطابق 18 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے منگھوپیر کی ایک نجی رہائشی سوسائٹی سے ڈھائی سالہ اذان علی خان کو اغوا کیا گیا تھا۔ بچے کے والد کی مدعیت میں منگھوپیر تھانے میں مقدمہ نمبر 438/2026 درج کیا گیا، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 364-A اور انسدادِ انسانی اسمگلنگ ایکٹ 2018 کی دفعہ 3(2) شامل کی گئی۔

اغوا کے بعد بچے کے اہلخانہ کو بیرون ملک رجسٹرڈ واٹس ایپ نمبر سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ موصول ہوا۔

تفتیش کے مطابق ملزمان نے مالی فائدے کے لیے بچے کے اغوا کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتشام نے اپنے سالے عبدالوهاب اور اپنے والد کے ملازم کے جاننے والے افتخار احمد کو اس منصوبے میں شامل کیا۔

پولیس کے مطابق اغوا سے تین روز قبل احتشام نے عبدالوهاب سے موٹر سائیکل کی جعلی نمبر پلیٹ تیار کروائی اور خود موٹر سائیکل، ہیلمٹ اور جعلی نمبر پلیٹ حاصل کی۔

تفتیش میں سامنے آیا کہ 16 جولائی کو احتشام جعلی نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل پر رہائشی سوسائٹی گیا، تاہم اندر داخل ہوئے بغیر واپس آگیا۔ اگلے روز وہ دوبارہ سوسائٹی پہنچا، لیکن گھر بند ہونے کی وجہ سے واپس لوٹ گیا۔

پولیس کے مطابق 18 جولائی کو احتشام دوبارہ سوسائٹی پہنچا، تقریباً دو گھنٹے انتظار کیا اور پھر گھر کے باہر سے اذان کو اغوا کرلیا۔ یہ تمام واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہوگیا۔

پولیس کے مطابق اغوا کے بعد احتشام نے بچے اور موٹر سائیکل کو جمشید کوارٹرز کے قریب عبدالوهاب کے حوالے کیا، جس کے بعد بچے کو گھارو منتقل کیا گیا، جہاں اسے افتخار احمد کے حوالے کردیا گیا۔ چند گھنٹوں کے اندر بچے کو گھارو سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں چھپا دیا گیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق اغوا کے دوران احتشام مسلسل بچے کے اہلخانہ سے رابطے میں رہا، تلاش کی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا ظاہر کرتا رہا اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے اہلخانہ کو مسلسل معلومات فراہم کرتا رہا۔

پولیس کے مطابق احتشام نے بیرون ملک مقیم اپنے دوست عبداللہ کی مدد سے واٹس ایپ کے ذریعے بچے کے اہلخانہ کو 50 لاکھ روپے تاوان کا پیغام بھجوایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلسل تفتیش، تکنیکی نگرانی اور میڈیا کوریج کے باعث ملزمان پر دباؤ بڑھ گیا۔ گاؤں کے مقامی افراد کو جب معلوم ہوا کہ بچہ وہاں موجود ہے تو انہوں نے بھی ملزمان پر بچے کو واپس کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

تفتیش کے مطابق افتخار احمد نے بعد ازاں احتشام پر بچے کو واپس لانے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے بعد گرفتاری کے خوف سے احتشام نے بچے کی موجودگی کی اطلاع والدین اور پولیس کو فراہم کردی۔

ایس ایس پی غربی طارق الٰہی مستوئی نے فوری طور پر خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی، جو بچے کے والدین کے ہمراہ گھارو روانہ ہوئی اور کارروائی کرکے اذان علی خان کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

بچے کی بازیابی کے بعد پولیس نے محمد احتشام کو گرفتار کیا، جس کی نشاندہی پر عبدالوهاب بھی گرفتار ہوگیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے موٹر سائیکل، ہیلمٹ، جعلی نمبر پلیٹ اور مبینہ طور پر اغوا کے وقت پہنے گئے کپڑے بھی برآمد کرلیے۔

بعد ازاں پولیس نے گھارو کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تیسرے ملزم افتخار احمد کو بھی گرفتار کرلیا، جہاں بچے کو چھپایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Related Posts