لاہور کے علاقے ہنجروال میں کھلے مین ہول نے ایک اور معصوم جان لے لی۔ سات سالہ بچہ کم روشنی کے باعث گلی میں موجود کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد اہلِ علاقہ نے متعلقہ اداروں کی غفلت پر شدید احتجاج کیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق واسا کی جانب سے سیوریج لائن کی صفائی کے لیے مین ہولز کے ڈھکن ہٹائے گئے تھے، تاہم کام مکمل ہونے کے باوجود انہیں دوبارہ بند نہیں کیا گیا۔ رات کے وقت روشنی ناکافی ہونے کے باعث بچہ کھلے مین ہول کو نہ دیکھ سکا اور حادثے کا شکار ہوگیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی لاہور اور کراچی میں کھلے مین ہولز متعدد قیمتی جانیں نگل چکے ہیں۔ رواں برس لاہور کے چونگ اور سندر کے علاقوں میں بھی کمسن بچے کھلے مین ہول میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ باغبانپورہ میں ایک بچہ خوش قسمتی سے بروقت بچا لیا گیا۔
کراچی میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران بارشوں کے موسم میں کھلے مین ہولز میں گرنے کے متعدد افسوسناک واقعات پیش آتے رہے، جن کے بعد شہریوں نے بارہا سیوریج نظام کی بہتری اور ذمہ دار اداروں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر حادثے کے بعد نوٹس اور تحقیقات کا اعلان تو کیا جاتا ہے، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث ایسے سانحات بار بار جنم لے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








