اب نقشہ بدلنے والا ہے؟ خواجہ آصف نے نئے صوبوں کے معاملے پر خاموشی توڑ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے پیشِ نظر پاکستان میں بھی نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سیالکوٹ میں نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ سے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل پر بھرپور بحث جاری ہے۔

انہوں نے اس خیالات کا اظہار کیا کہ دنیا بھر میں طرزِ حکومت کو بہتر بنانے کیلئے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں لہٰذا اگر ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھا کر 12 کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے تو اس پر سنجیدگی سے عمل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ یہ فیصلے لسانی، نسلی یا کسی سیاسی مفاد کے بجائے خالصتاً انتظامی بہتری کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔

وزیرِ دفاع نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں بھی پہلے 8 سے 10 صوبے تھے جنہیں تقسیم کر کے اب 30 سے زائد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی دارالحکومتوں (جیسے لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور) میں طاقت کا ارتکاز ختم ہونا چاہیے اور اختیارات نچلی سطح پر انتظامی یونٹس کو منتقل کیے جانے چاہئیں۔

خواجہ آصف نے گلہ کیا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ترقیاتی فنڈز اکثر صوبائی حکومتوں کی صوابدید یا رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں جبکہ اصل میں ان فنڈز کی منزل مقامی بلدیاتی ادارے ہونے چاہئیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی ادارے بھی صوبائی حکومتوں کے محتاج بنے ہوئے ہیں۔

سیاستدانوں کے رویے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اقتدار اور طاقت عوام کی امانت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ سیاستدان تمام اختیارات خود اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔

Related Posts