برطانوی پاسپورٹ کا خواب دیکھنے والوں کو بڑا جھٹکا؟ امیگریشن قوانین سخت کر دیئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

برطانوی حکومت نے امیگریشن پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے بیشتر تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کی مدت پانچ سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ نئے نظام کے تحت درخواست گزاروں کو آمدنی، انگریزی زبان اور دیگر قانونی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے مشاورت کے بعد امیگریشن اصلاحات کی تفصیلات جاری کردیں۔ ان تبدیلیوں کا ابتدائی خاکہ نومبر 2025 میں پیش کیا گیا تھا۔

مستقل رہائش کے لیے نئی شرائط

مجوزہ نظام کے تحت عام تارکین وطن کو مستقل رہائش کے لیے برطانیہ میں کم از کم 10 سال گزارنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ درخواست سے قبل گزشتہ سات برس میں کم از کم پانچ سال تک سالانہ 12 ہزار 571 پاؤنڈ آمدنی حاصل کرنا ضروری ہوگا تاہم بعض شعبوں اور زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے رعایت بھی رکھی گئی ہے۔

سالانہ 50 ہزار 271 پاؤنڈ یا اس سے زائد کمانے والے اہل افراد پانچ سال میں مستقل رہائش حاصل کرسکیں گے۔

ڈاکٹرز، نرسز، اساتذہ اور مخصوص شرائط پوری کرنے والے نگہداشت کے کارکنوں کے لیے بھی پانچ سال کا راستہ برقرار رکھا گیا ہے۔

ہانگ کانگ کے برٹش نیشنل اوورسیز (BNO) اسٹیٹس رکھنے والے اہل افراد بھی پانچ سال بعد درخواست دے سکیں گے۔

سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار 141 پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے اور گلوبل ٹیلنٹ یا انوویٹر فاؤنڈر ویزا رکھنے والے بعض افراد تین سال میں اہل ہوسکیں گے۔

سرکاری فوائد حاصل کرنے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بعض افراد کے لیے انتظار کی مدت 20 سال تک ہوسکتی ہے۔

مستقل رہائش کے لیے اضافی تقاضے

درخواست گزاروں کے لیے اچھا مجرمانہ ریکارڈ، انگریزی زبان پر مضبوط عبور، حکومت کے واجبات کی عدم موجودگی اور کم از کم تین سال تک سالانہ 12 ہزار 571 پاؤنڈ آمدنی کی شرط بھی شامل ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے الگ پالیسی

سرکاری اسکیم کے تحت آنے والے پناہ گزین پانچ سال بعد مستقل رہائش کے اہل ہوسکیں گے۔ دیگر پناہ گزینوں کے لیے ملازمت یا تعلیم کی صورت میں یہ مدت 10 سال ہوگی جبکہ ان شرائط پر پورا نہ اترنے والوں کو 20 سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

چھوٹی کشتیوں یا غیر قانونی راستوں سے برطانیہ پہنچنے والے پناہ گزینوں کے لیے ملازمت یا تعلیم کی صورت میں 20 سال اور بصورت دیگر 30 سال کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

پہلے سے مقیم تارکین وطن اور اہل خانہ بھی متاثر

نئی تبدیلیوں کا اطلاق پہلے سے برطانیہ میں مقیم اہل تارکین وطن پر بھی ہوگا تاہم جن افراد کو مستقل رہائش مل چکی ہے، وہ متاثر نہیں ہوں گے۔

اہل شریکِ حیات اپنے ساتھی کے ساتھ مستقل رہائش حاصل کرسکیں گے جبکہ 18 سال سے کم عمر بچوں کو والدین کے ساتھ یہ حق دینے کا موجودہ طریقہ برقرار رہے گا۔ برطانوی شہریوں کے اہل شریکِ حیات، والدین اور بچوں کے لیے پانچ سال بعد مستقل رہائش کا راستہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

مستقل رہائش ملنے کے بعد کیا حقوق حاصل ہوں گے؟

برطانیہ میں مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain) ملنے کے بعد کوئی شخص غیر معینہ مدت تک ملک میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ دیگر قانونی شرائط پوری ہونے پر مستقل رہائش ملنے کے 12 ماہ بعد برطانوی شہریت کیلئے بھی درخواست دی جاسکتی ہے۔

Related Posts