خیبرپختونخوا میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے جہاں رواں سال متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہزار 268 تک پہنچ گئی جبکہ صوبے میں اس وقت 169 مریض زیر علاج ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق اب تک 5 ہزار 98 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں تاہم ڈینگی سے ایک ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوہاٹ صوبے کا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں ڈینگی کے 3 ہزار 8 کیسز سامنے آئے اور 123 مریض اب بھی فعال کیسز میں شامل ہیں۔ پشاور میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 655 ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران صورتحال زیادہ تشویشناک رہی اور صرف ایک ماہ میں ڈینگی کے 2 ہزار 656 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ڈینگی سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، جس کی عام علامات میں تیز بخار، جسم اور پٹھوں میں درد شامل ہیں۔ شدید صورت میں جسم پر دھبے اور خون بہنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
ڈینگی سے محفوظ رہنے کے لیے گھروں اور اردگرد پانی جمع نہ ہونے دیں، گملوں اور دیگر برتنوں کو صاف رکھیں اور کوڑا کرکٹ ڈھانپ کر رکھیں۔
مچھروں سے بچاؤ کے لیے پورے بازوؤں والے کپڑے پہنیں، مچھر بھگانے والا لوشن اور مچھر دانی استعمال کریں۔ کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگائیں اور ضرورت پڑنے پر مچھر مار اسپرے استعمال کریں۔
گھر اور اردگرد صفائی برقرار رکھنا بھی ڈینگی مچھروں کی افزائش روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








