سائیں سرکار کا غضب کا کارنامہ! سڑک بنائی مگر کھمبے درمیان میں چھوڑ دئیے، میئر حیدر آباد کی انوکھی وضاحت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

حیدرآباد کے علاقے علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک جانے والی سڑک کا ایک انوکھا منظر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سڑک کے بالکل درمیان میں کھڑے بجلی کے کھمبوں کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شہریوں کی جانب سے محکمہ جاتی کارکردگی اور انجینئرنگ کے معیار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

وائرل ہونے والی کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کارپٹنگ یا تعمیر کے مراحل سے گزرنے والی اس شاہراہ کے عین وسط میں بجلی کے کھمبے موجود ہیں جو نہ صرف ٹریفک کی روانی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ راہگیروں کے لیے بھی شدید حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سڑک بناتے وقت متعلقہ اداروں کو کھمبے ہٹانے کا ہوش ہی نہیں رہا؟

سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے اس صورتحال پر طنز کے تیر چلائے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے کمنٹ کیا کہ روڈ کیسے بنائے جاتے ہیں، یہ ہنر کوئی سندھ حکومت سے سیکھے۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ پہلے کھمبے ہٹا کر سڑک بنانی چاہیے تھی اب جب کھمبے ہٹائے جائیں گے تو اس نئی سڑک کو دوبارہ کاٹ کر کھڈے کر دیے جائیں گے۔

شہریوں نے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے دوران بنیادی ڈھانچے کی منتقلی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچا جا سکے۔

میئر حیدرآباد کے ترجمان کی وضاحت

عوامی تنقید کے بعد ترجمان میئر حیدرآباد نے معاملے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک کا یہ پراجیکٹ ابھی تک زیرِ تعمیر ہے اور اس کی تکمیل کا عمل جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے تحت کل 162 بجلی کے کھمبے منتقل کیے جانے ہیں جن میں سے اب تک 27 میں سے 10 بجلی کے فیڈرز کی منتقلی کا کام کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سڑک کا تعمیراتی کام مکمل ہونے اور اس کا باضابطہ افتتاح ہونے تک اس شاہراہ کو آمدورفت یا سفر کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

Related Posts