بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں پولیس کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں تین افراد کو ریاست راجستھان سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان کے مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے روابط کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں تاہم پولیس کی جانب سے اس تعلق کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ملزمان ٹرین کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس نے انہیں راجستھان کے شہر کوٹا میں ریلوے اسٹیشن سے حراست میں لے لیا۔ گرفتار افراد میں سے دو کا تعلق ہریانہ جبکہ ایک کا تعلق ریاست بہار سے بتایا جا رہا ہے۔
ٹرین کے ذریعے فرار کی کوشش، پولیس نے کیسے پکڑا؟
بھارتی میڈیا کے مطابق ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جس کے بعد راجستھان میں کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی ممبئی پولیس کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر عمل میں آئی۔ حکام ملزمان کے مبینہ کردار، حملے کی منصوبہ بندی اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ٹائیگر شروف پر فائرنگ کا واقعہ کب پیش آیا؟
یاد رہے کہ ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ 18 اکتوبر کو ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار فٹ بال کھیلنے کے بعد واپس روانہ ہو رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ٹائیگر شیروف محفوظ رہے تاہم ان کے ڈرائیور فردوس سمیت دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد ممبئی پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی تھیں۔
لارنس بشنوئی گینگ سے مبینہ تعلق کی تحقیقات
فائرنگ کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض ایسے پیغامات سامنے آئے جن میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے اور لارنس بشنوئی گینگ سے تعلق کے دعوے کیے گئے تھے۔ انیل پنڈت اور ہرمن سندھو سے منسوب پیغامات میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا گیا۔
ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ میں سلمان خان سے لارنس بشنوئی اور بشنوئی برادری سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔ ایک الگ پیغام میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والے فلمی حلقوں کو دھمکی دیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تاہم ان پیغامات اور آڈیو ریکارڈنگ کی صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی جبکہ پولیس نے بھی ٹائیگر شروف پر حملے اور لارنس بشنوئی گینگ کے درمیان براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی۔
پولیس کی تحقیقات جاری، مزید حقائق سامنے آنے کا امکان
ممبئی پولیس واقعے کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے مختلف شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔ تحقیقات میں گرفتار ملزمان کے مبینہ کردار، فائرنگ کی منصوبہ بندی اور کسی منظم جرائم پیشہ گروہ سے ممکنہ تعلق پر توجہ دی جا رہی ہے۔
تفتیش کا اہم مرحلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا حملہ کسی ذاتی یا پیشہ ورانہ تنازع کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک سرگرم تھا۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے اور شواہد کی جانچ کے بعد ہی واقعے کے اصل محرکات اور ملزمان کے ممکنہ روابط کے بارے میں حتمی صورت حال واضح ہوسکے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








